مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَا يُحَرِّمُ دَمَ الْمَرْءِ وَمَالَهُ . باب: اس چیز ( یعنی کلمہ ) کا بیان جو آدمی کی جان اور مال کو (دوسرے کے لئے ) حرام کر دیتی ہے
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيَّةً ، فَأَغَارُوا عَلَى قَوْمٍ ، فَشَدَّ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ، فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَ السَّرِيَّةِ وَمَعَهُ السَّيْفُ شَاهِرُهُ ، فَقَالَ الشَّادُّ مِنَ الْقَوْمِ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ ، فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا بَلَغَ الْقَاتِلَ ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ إِذْ قَالَ الْقَاتِلُ : وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنَ النَّاسِ ، وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ الثَّانِيَةَ : وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ، فَلَمْ يَصْبِرْ أَنْ قَالَ الثَّالِثَةَ : وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنَ الْقَتْلِ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ أَبَى عَلَيَّ فِيمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا [ قَالَهَا ] ثَلَاثًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ بَدَلَ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤سیدنا عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگی مہم روانہ کی ، ان لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا تو دشمن کا ایک فرد ان سے الگ ہو گیا ، ایک مسلمان اس کے پیچھے تلوار لہراتا ہوا گیا ، تو الگ ہونے والے اس فرد نے یہ کہا: میں مسلمان ہوں ، لیکن مسلمان نے اس کی بات پر دھیان نہیں دیا اور اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا ، اس بات کی اطلاع قتل کرنے والے مسلمان کو ملی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ، اسی دوران اُس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! اس ( مقتول ) شخص نے یہ بات صرف قتل سے بچنے کے لیے کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے اور اس طرف موجود افراد سے منہ پھیر لیا ، اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، اس شخص نے دوسری مرتبہ پھر یہی بات کہی : اللہ کی قسم ! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس سے منہ پھیر لیا اور اپنا خطبہ جاری رکھا ، اس شخص سے صبر نہیں ہوا ، یہاں تک کہ اس نے تیسری مرتبہ یہ کہا: اللہ کی قسم ! اس نے قتل سے بچنے کے لیے یہ بات کہی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے ، آپ کے چہرہ مبارک پر ناگواری کے آثار واضح تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کسی مومن کو قتل کر دیتا ہے ، اللہ تعالٰی نے اس کے بارے میں مجھے منع کیا ہے“ ۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے بھی اسے نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے راوی کا نام سیدنا عقبہ بن مالک کی بجائے ، سیدنا عقبہ بن خالد رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے ، اس روایت کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔