حدیث نمبر: 60
وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ - رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ - قَالَ : إِنِّي لَعِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ جَاءَهُ بَشِيرٌ مِنْ سَرِيَّتِهِ فَأَخْبَرَهُ بِالنَّصْرِ الَّذِي نَصَرَ اللَّهُ سَرِيَّتَهُ ، وَبِالْفَتْحِ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ لَهُمْ ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَيْنَا نَحْنُ نَطْلُبُ الْقَوْمَ وَقَدْ هَزَمَهُمُ اللَّهُ - تَعَالَى - إِذْ لَحِقْتُ رَجُلًا بِالسَّيْفِ ، فَوَاقَعْتُهُ وَهُوَ يَسْعَى وَهُوَ يَقُولُ : إِنِّي مُسْلِمٌ ، إِنِّي مُسْلِمٌ . قَالَ : " فَقَتَلْتَهُ ؟ " فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّمَا تَعَوَّذَ . قَالَ : " فَهَلَّا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ فَنَظَرْتَ أَصَادِقٌ هُوَ أَمْ كَاذِبٌ " قَالَ : لَوْ شَقَقْتُ عَنْ قَلْبِهِ مَا كَانَ عِلْمِي ؟ هَلْ قَلْبُهُ إِلَّا بَضْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ ؟ قَالَ : " لَا مَا فِي قَلْبِهِ تَعْلَمُ ، وَلَا لِسَانَهُ صَدَّقْتَ ! " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِي . قَالَ : " لَا أَسْتَغْفِرُ لَكَ " فَمَاتَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَدَفَنُوهُ ، فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، ثُمَّ دَفَنُوهُ فَأَصْبَحَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، فَلَمَّا رَأَوْا ذَلِكَ اسْتَحْيَوْا وَخَزُوا لِمَا لَقِيَ ، فَاحْتَمَلُوهُ فَأَلْقَوْهُ فِي شِعْبٍ مِنْ تِلْكَ الشِّعَابِ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِي إِسْنَادِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ وَشَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، وَقَدِ اخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق ” بجیلہ “ قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ، جب ایک جنگی مہم کی طرف سے خوش خبری سنانے والا ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ اطلاع دی : کہ اللہ تعالی نے اس جنگی مہم کی مدد کرتے ہوئے انہیں کامیابی عطا کی ہے اور انہیں فتح نصیب کر دی ہے ، اس شخص نے یہ بھی بتایا : یا رسول اللہ ! جب اللہ تعالیٰ نے دشمن کو پسپا کر دیا اور ہم ان کا تعاقب کر رہے تھے ، اس دوران میں تلوار لے کر ایک شخص کے پاس پہنچا ، میں اس پر حملہ کرنے لگا ، تو وہ دوڑ پڑا اور بولا: میں مسلمان ہوں ، میں مسلمان ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تو کیا تم نے اسے قتل کر دیا ؟ اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ بچنا چاہ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کا دل کیوں نہیں چیر دیا ؟ تاکہ تم یہ دیکھ لیتے کہ کیا وہ سچا ہے ، یا جھوٹا ہے ؟ اس شخص نے عرض کی : اگر میں اس کا دل چیر بھی لیتا ، تو بھی مجھے یہ پتہ نہیں چل سکتا تھا ، کیونکہ اس کا دل تو صرف گوشت کا ایک لوتھڑا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کے دل میں جو تھا ، نہ تو تم اس کے بارے میں جان سکتے تھے ، اور نہ ہی تم نے اُس کی زبان کی تصدیق کی ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے دعائے مغفرت کیجیے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں تمہارے لئے دعائے مغفرت نہیں کروں گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب وہ شخص مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کر دیا ، تو اگلے دن اس کی لاش ( قبر سے باہر ) زمین پر پڑی ہوئی تھی ، لوگوں نے اسے دوبارہ دفن کیا ، ( تو اگلے دن ) اس کی لاش پھر زمین پر پڑی ہوئی تھی ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، جب لوگوں نے یہ صورت حال دیکھی ، تو اس شخص کے معاملے کے حوالے سے انہیں حیا محسوس ہوئی اور شرمندگی محسوس ہوئی ، تو لوگوں نے اس کی لاش اُٹھا کر ایک گڑھے میں ڈال دی ۔
( علامہ ہیثمی کہتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ، اس کی سند میں دو راوی ، عبدالحمید بن بہرام اور شہر بن حوشب ہیں ، ان دونوں سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 60
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام أبو يعلى فى مسنده 1519 اورده المؤلف فى المقصد العلى 1843»