کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جُنْدُبَ بْنَ سُفْيَانَ الْبَجَلِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ يَقُولُ: " مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَلْيُعِدْ مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
جندب بن سفیان بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں قربانی والے دن نبی ﷺ کے ساتھ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو نماز ادا کرنے سے پہلے ذبح کرے وہ نماز پڑھنے کے بعد اس کی جگہ دوسرا جانور قربان کرے اور جس نے ابھی تک ذبح نہیں کیا وہ ذبح کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ، وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعِدْ نُسُكًا ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا لَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. فَقَالَ: " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِكَ، وَلَا تُجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے خالو سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کر دی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ تو گوشت کا دن ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی کو جلدی کیا ہے تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھانا کھلا سکوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی دوبارہ کر۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے اچھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری بہترین قربانی ہے، لیکن تیرے بعد «جَذَع» یعنی کھیرا جانور کسی کو بھی کفایت نہ کرے گا۔“
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ سَخْتَوَيْهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى، أَنَّ مُسَدَّدًا حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ النَّحْرِ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے۔“ تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی چاہت کی جاتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی کچھ حاجت کا تذکرہ کیا۔ گویا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور اس نے کہا: میرے پاس کھیرا جانور ہے جو دو گوشت کی بکریوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو رخصت دی، لیکن مجھے معلوم نہیں یہ رخصت اسی کو تھی یا اس کے علاوہ کسی اور کو بھی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غَنِيمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ: تَجَزَّعُوهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِطُولِهِ، وَعَنْ مُسَدَّدٍ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابنِ علیہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، اس میں زیادتی ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انھیں ذبح کر دیا، تو لوگ بکریوں کے ایک چھوٹے ریوڑ کی طرف اٹھے اور اسے آپس میں بانٹ لیا، یا فرمایا: اس کے حصے کر لیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ إِبْرَاهِي مَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى.
حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عویمر بن اشعر رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کر دی اور نبی ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا۔
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“
ثُمَّ قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أَنَّ الضَّحِيَّةَ وَاجِبَةٌ، وَاحْتَمَلَ أَمْرُهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ؛ لَأَنَّ الضَّحِيَّةَ قَبْلَ الْوَقْتِ لَيْسَتْ بِضَحِيَّةٍ تُجْزِيهِ فَيَكُونُ مِنْ عِدَادِ مَنْ ضَحَّى فَوَجَدْنَا الدَّلَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الضَّحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ لَا يَحِلُّ تَرْكُهَا وَهِيَ سُنَّةٌ نُحِبُّ لُزُومَهَا وَنَكْرَهُ تَرْكَهَا لَا عَلَى إِيجَابِهَا، فَإِنْ قِيلَ: فَأَيْنَ السُّنَّةُ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهَا لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ، قِيلَ:.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید قربانی کے واجب ہونے کی وجہ سے اعادہ کا حکم فرمایا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دوبارہ قربانی کا ارادہ ہو تو کر لے اور وقت سے پہلے والی قربانی کفایت نہ کرے گی۔ قربانی ایسی واجب نہیں کہ اس کا ترک کر دینا جائز نہ ہو، بلکہ یہ سنت ہے، اس کے لزوم کو ہم پسند کرتے ہیں اور ترک کو ناپسند کرتے ہیں، نہ کہ اسے واجب سمجھتے ہوئے۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ سنت کہاں ہے جو عدم وجوب پر دلالت کرتی ہے؟
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے تو قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے جسم کے کسی حصہ سے بال نہ اکھاڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قربانی کا ارادہ کرے“ اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ ﷺ یوں نہ فرماتے بلکہ یہ کہہ دیتے کہ کوئی اپنے بال نہ کٹوائے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔
شیخ فرماتے ہیں: براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا: ”اس دن سب سے پہلا کام نماز ادا کرنا ہے پھر قربانی کرنا۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے تو قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے جسم کے کسی حصہ سے بال نہ اکھاڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قربانی کا ارادہ کرے“ اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ ﷺ یوں نہ فرماتے بلکہ یہ کہہ دیتے کہ کوئی اپنے بال نہ کٹوائے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔
شیخ فرماتے ہیں: براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا: ”اس دن سب سے پہلا کام نماز ادا کرنا ہے پھر قربانی کرنا۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَيَّاشٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ عَيَّاشَ بْنَ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُمْ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، حَدَّثَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ ". فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةَ أَبِي أَوْ شَاةَ أَبِي وَأَهْلِي وَمَنِيحَتَهُمْ أَذْبَحُهَا؟ قَالَ: " لَا، وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ، وَقُصَّ شَارِبَكَ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ، فَذَلِكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی کا دن اللہ نے اس امت کے لیے عید کا دن مقرر فرمایا ہے۔“ تو اس شخص نے کہا: اگر اپنے بچوں اور گھر والوں کے دودھ والا جانور ذبح کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دودھ والا جانور ذبح نہ کر، لیکن اپنے ناخن کاٹ، مونچھیں مونڈ لے اور زیرِ ناف بالوں کی صفائی کر، اس طرح تجھے اللہ سے مکمل قربانی کا ثواب ملے گا۔“
وَأَنْبَانِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن وہب رحمہ اللہ نے اسے اپنی سند سے اسی طرح ذکر کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الضُّحَى ".
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں میرے اوپر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل: قربانی کرنا، وتر پڑھنا، اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنا۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا أَبُو يَعْلَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ ابْنُ بِنْتِ السُّدِّيِّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ: " كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ ". زَادَ الْأَصْبَهَانِيُّ فِي رِوَايَتِهِ: " وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا " كَذَا قَالَا عَنْ سِمَاكٍ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے۔“ اصبہانی نے اپنی روایت میں زیادہ کیا ہے کہ ”مجھے نماز چاشت کا حکم دیا گیا ہے جبکہ تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔“ [ضعیف]
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ: " كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا ". وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ جَابِرٍ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور نمازِ چاشت مجھے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔“
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى لِلنَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ وَصَلَاتِهِ دَعَا بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ هُوَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ". ⦗٤٤٤⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا فَيَظُنُّ مَنْ رَآهُمَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز اور خطبہ سے فارغ ہو کر ایک مینڈھا منگوا کر خود ذبح کیا اور فرمایا: ”«بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! میری اور میری امت کے اس شخص کی جانب سے جس نے قربانی نہیں کی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہ کرتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا شروع نہ کردیں اور جو انہیں (قربانی کرتے) دیکھے وہ یہ گمان کرے کہ یہ واجب ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہ کرتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا شروع نہ کردیں اور جو انہیں (قربانی کرتے) دیکھے وہ یہ گمان کرے کہ یہ واجب ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُطَرِّفٍ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ أَوْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا. أَبُو سَرِيحَةَ الْغِفَارِيُّ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوشریحہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو پایا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے۔ بعض احادیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ صرف اقتدا کے ڈر سے ایسا کرتے تھے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا يُضَحِّيَانِ عَنْ أَهْلِهِمَا خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَّ بِهِمَا، فَلَمَّا جِئْتُ بَلَدَكُمْ هَذَا حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ السُّنَّةَ. كَذَا قَالَهُ مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَامِرٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی جانب سے قربانی نہ کرتے تھے کہ کہیں لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں، لیکن جب میں تمہارے اس شہر میں آیا تو میرے گھر والوں نے مجھے سنت جان لینے کے بعد بھی جفا (یعنی سنت سے ہٹنے) پر آمادہ کر دیا۔
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ فِيمَا قَرَأْتُ عَلَيْهِ، أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ ⦗٤٤٥⦘ الْبِزَارِيُّ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْغَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: إِنَّ مُعْتَمِرًا حَدَّثَنَا قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا مُطَرِّفٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ، فَقَالَ: هَذَا مِثْلُ حَدِيثِهِ عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَمْرٍو الْجَمَلِيِّ، يُرِيدُ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ عَامِرٌ، فَذَكَرَهُ. يُرِيدُ يَحْيَى أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي هَذَا كَمَا أَخْطَأَ فِي ذَلِكَ. وَرِوَايَةُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ تُؤَكِّدُ قَوْلَ يَحْيَى قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن علی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید سے کہا: معتمر نے ہمیں بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں مطرف نے شعبی سے، انہوں نے ابو سریحہ سے بیان کیا۔ تو انہوں نے کہا: یہ ان کی اس حدیث کی طرح ہے جو شعبی سے عمرو جملی یعنی عمرو بن مرہ سے ہے: ہمیں اسماعیل نے بیان کیا، ہمیں عامر نے خبر دی، پھر انہوں نے اسے ذکر کیا۔ یحییٰ کی مراد یہ ہے کہ انہوں نے اس میں بھی ویسے ہی غلطی کی جیسے اُس میں غلطی کی تھی۔ اور سفیان ثوری کی روایت یحییٰ کے قول کی تائید کرتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی (روایت ہے)۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی (روایت ہے)۔
فذَكَرَ مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي، يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا حَضَرَ الْأَضْحَى أَعْطَى مَوْلًى لَهُ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ: اشْتَرِ بِهِمَا لَحْمًا وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ أَضْحَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قربانی کے موقع پر انہیں دو درہم عطا کرتے کہ گوشت خرید کر لوگوں کو بتا دینا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قربانی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَدَعُ الْأَضْحَى وَإِنِّي لَمُوسِرٌ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَرَى جِيرَانِي أَنَّهُ حَتْمٌ عَلَيَّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خوشحالی کے باوجود قربانی چھوڑ دیتا ہوں کہ میرا ہمسایہ اس کو میرے اوپر فرض نہ جان لے۔
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَوَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدَعَ الْأُضْحِيَّةَ وَإِنِّي لَمِنْ أَيْسَرِكُمْ؛ مَخَافَةَ أَنْ تَحْسَبَ النَّفْسُ أَنَّهَا عَلَيْهَا حَتْمٌ وَاجِبٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالداری کے باوجود قربانی چھوڑ دینے کا ارادہ کیا تاکہ ذہن اس کو اپنے اوپر فرض قرار نہ دے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْأَضْحَى فَقَالَ: أَكْرَهُ أَوِ اجْتَنِبْ، شَكَّ وَهْبِ، الْعُورَ الْبَيِّنَ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءَ الْبَيِّنَ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةَ الْبَيِّنَ مَرَضُهَا، وَالْمَهْزُولَةَ الْبَيِّنَ هُزَالُهَا. ثُمَّ قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: لَعَلَّكَ تَحْسَبُ حَتْمًا؟ قُلْتُ: لَا وَلَكِنَّهُ أَجْرٌ وَخَيْرٌ وَسُنَّةٌ. قَالَ: نَعَمْ ⦗٤٤٦⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَعْدُو الْقَوْلُ فِي الضَّحَايَا هَذَا أَوْ تَكُونُ وَاجِبَةً فَهِيَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ لَا يُجْزِي غَيْرُ شَاةٍ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ثعلبہ کے ایک شخص ابو خصیب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے تو ان سے کسی شخص نے قربانی کے متعلق سوال کیا، وہ کہتے ہیں: میں ناپسند کرتا ہوں یا تم اجتناب کرو (وہب کو شک ہے) ”ایسا کانا جانور جس کا کانا پن ظاہر ہو اور لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو اور ایسا کمزور جانور جس کی کمزوری واضح ہو“، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: شاید تم اس کو لازم سمجھتے ہو؟ وہ کہتے ہیں: یہ تو ثواب، خیر اور سنت ہے، انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق قول اس سے آگے نہیں جاتا، ورنہ پھر یہ واجب ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے پر ہو گی اور ہر ایک کی طرف سے ایک بکری سے کم کفایت نہ کرے گی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق قول اس سے آگے نہیں جاتا، ورنہ پھر یہ واجب ہو گی اور ہر چھوٹے بڑے پر ہو گی اور ہر ایک کی طرف سے ایک بکری سے کم کفایت نہ کرے گی۔