السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنِّي لَأَدَعُ الْأَضْحَى وَإِنِّي لَمُوسِرٌ؛ مَخَافَةَ أَنْ يَرَى جِيرَانِي أَنَّهُ حَتْمٌ عَلَيَّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں خوشحالی کے باوجود قربانی چھوڑ دیتا ہوں کہ میرا ہمسایہ اس کو میرے اوپر فرض نہ جان لے۔