السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19034
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِيهِ، وَمُطَرِّفٍ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَرِيحَةَ الْغِفَارِيِّ، قَالَ: أَدْرَكْتُ أَبَا بَكْرٍ أَوْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ فِي بَعْضِ حَدِيثِهِمْ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا. أَبُو سَرِيحَةَ الْغِفَارِيُّ هُوَ حُذَيْفَةُ بْنُ أُسَيْدٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
ابوشریحہ غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو پایا کہ وہ قربانی نہیں کرتے تھے۔ بعض احادیث میں اس بات کی وضاحت ہے کہ صرف اقتدا کے ڈر سے ایسا کرتے تھے۔