السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19025
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا ابْنُ عُلَيَّةَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ زَادَ: ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا فَقَامَ النَّاسُ إِلَى غَنِيمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ: تَجَزَّعُوهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ صَدَقَةِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ بِطُولِهِ، وَعَنْ مُسَدَّدٍ مُخْتَصَرًا، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ.حافظ ثناء اللہ
ابنِ علیہ رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے، اس میں زیادتی ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ایک جیسے دونوں مینڈھے ذبح کر دیے، تو لوگوں نے پھر بکریاں ذبح کیں۔