السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19032
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ السُّدِّيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ قَالَ: " كُتِبَ عَلَيَّ النَّحْرُ وَلَمْ يُكْتَبْ عَلَيْكُمْ، وَأُمِرْتُ بِصَلَاةِ الضُّحَى وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِهَا ". وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ عَنْ جَابِرٍ، هُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی میرے اوپر فرض ہے جبکہ تمہارے اوپر فرض نہیں ہے اور نمازِ چاشت مجھے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور تمہیں حکم نہیں دیا گیا۔“