السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19037
فذَكَرَ مَعْنَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي، يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ بُخْتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ إِذَا حَضَرَ الْأَضْحَى أَعْطَى مَوْلًى لَهُ دِرْهَمَيْنِ فَقَالَ: اشْتَرِ بِهِمَا لَحْمًا وَأَخْبِرِ النَّاسَ أَنَّهُ أَضْحَى ابْنِ عَبَّاسٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما قربانی کے موقع پر انہیں دو درہم عطا کرتے کہ گوشت خرید کر لوگوں کو بتا دینا کہ یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی قربانی ہے۔