السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19023
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ النَّضْرِ الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ خَالَهُ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَكْرُوهٌ، وَإِنِّي عَجَّلْتُ نَسِيكَتِي لِأُطْعِمَ أَهْلِي وَجِيرَانِي وَأَهْلَ دَارِي. فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعِدْ نُسُكًا ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ عِنْدِي عَنَاقًا لَهِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. فَقَالَ: " هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتِكَ، وَلَا تُجْزِي جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَاسْتَشْهَدَ بِهِ الْبُخَارِيُّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے خالو سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے ذبح کرنے سے پہلے قربانی کر دی۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ تو گوشت کا دن ہے، اس لیے میں نے اپنی قربانی کو جلدی کیا ہے تاکہ اپنے گھر والوں اور ہمسایوں کو کھانا کھلا سکوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قربانی دوبارہ کر۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس بکری کا ایک سالہ بچہ ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے اچھا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تیری بہترین قربانی ہے، لیکن تیرے بعد «جَذَع» یعنی کھیرا جانور کسی کو بھی کفایت نہ کرے گا۔“