السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ: شَهِدْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْأَضْحَى فَقَالَ: أَكْرَهُ أَوِ اجْتَنِبْ، شَكَّ وَهْبِ، الْعُورَ الْبَيِّنَ عَوَرُهَا، وَالْعَرْجَاءَ الْبَيِّنَ عَرَجُهَا، وَالْمَرِيضَةَ الْبَيِّنَ مَرَضُهَا، وَالْمَهْزُولَةَ الْبَيِّنَ هُزَالُهَا. ثُمَّ قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: لَعَلَّكَ تَحْسَبُ حَتْمًا؟ قُلْتُ: لَا وَلَكِنَّهُ أَجْرٌ وَخَيْرٌ وَسُنَّةٌ. قَالَ: نَعَمْ ⦗٤٤٦⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَا يَعْدُو الْقَوْلُ فِي الضَّحَايَا هَذَا أَوْ تَكُونُ وَاجِبَةً فَهِيَ عَلَى كُلِّ أَحَدٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ لَا يُجْزِي غَيْرُ شَاةٍ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ.قیس بن ثعلبہ کے ایک شخص ابو خصیب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوئے تو ان سے کسی شخص نے قربانی کے متعلق سوال کیا، وہ کہتے ہیں: میں ناپسند کرتا ہوں یا تم اجتناب کرو (وہب کو شک ہے) بلکہ ”جس کا بھینگا پن ظاہر ہو اور لنگڑا جانور، ایسا بیمار جانور جس کی بیماری ظاہر ہو اور ایسا کمزور جانور جس کی کمزوری واضح ہو“، پھر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نہ ہی تو اس کو لازم جان لے، وہ کہتے ہیں: یہ تو ثواب، خیر اور سنت ہے، انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: قربانیوں کے متعلق اس قول کو شمار نہ کریں گے کہ یہ واجب ہے لیکن ایک بکری سے کم کسی چھوٹے بڑے سے کفایت نہ کرے گی۔