السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19026
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنَ إِبْرَاهِي مَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ ضَحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الْأَضْحَى، وَأَنَّهُ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى.حافظ ثناء اللہ
عباد بن تمیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عویمر بن اشعر رضی اللہ عنہ نے عید کی نماز پڑھنے سے پہلے قربانی کر دی اور نبی ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے اس کی جگہ دوسری قربانی کرنے کا حکم دیا۔
(ب) بشری بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی قربانی ذبح کرنے سے پہلے ذبح کر دی تو ان کا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے ان کو دوبارہ قربانی کرنے کا حکم فرمایا۔ ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس صرف جزعہ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر صرف تیرے پاس جزعہ ہے تو ذبح کر ڈال۔“