السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19035
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَشْعَثِ، ثنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَمَا يُضَحِّيَانِ عَنْ أَهْلِهِمَا خَشْيَةَ أَنْ يُسْتَنَّ بِهِمَا، فَلَمَّا جِئْتُ بَلَدَكُمْ هَذَا حَمَلَنِي أَهْلِي عَلَى الْجَفَاءِ بَعْدَ مَا عَلِمْتُ السُّنَّةَ. كَذَا قَالَهُ مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَامِرٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اپنے گھر والوں کی جانب سے قربانی نہ کرتے تھے کہ کہیں لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں، لیکن جب میں تمہارے اس شہر میں آیا تو میرے گھر والوں نے مجھے سنت جان لینے کے بعد بھی جفا (یعنی سنت سے ہٹنے) پر آمادہ کر دیا۔
معتمر بن سلیمان نے اسے عامر سے اسی طرح بیان کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے۔