السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19024
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٤٤١⦘ سَخْتَوَيْهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْمُثَنَّى، أَنَّ مُسَدَّدًا حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ النَّحْرِ: " مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ ". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ كَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ. قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ، قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے قربانی کے دن فرمایا: ”جس نے نماز سے پہلے قربانی کر دی وہ اس کی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے۔“ تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی چاہت کی جاتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسی کی جلد بازی کا تذکرہ کیا۔ گویا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور اس نے کہا: میرے پاس کھیرا جانور ہے جو دو گوشت کی بکریوں سے مجھے زیادہ محبوب ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو رخصت دی، لیکن مجھے معلوم نہیں یہ رخصت اسی کو تھی یا اس کے علاوہ کسی اور کو بھی۔