السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19033
وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَالِمٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى لِلنَّاسِ يَوْمَ النَّحْرِ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ وَصَلَاتِهِ دَعَا بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ هُوَ بِنَفْسِهِ وَقَالَ: " بِسْمِ اللهِ وَاللهُ أَكْبَرُ، اللهُمَّ عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي ". ⦗٤٤٤⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا لَا يُضَحِّيَانِ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُقْتَدَى بِهِمَا فَيَظُنُّ مَنْ رَآهُمَا أَنَّهَا وَاجِبَةٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز اور خطبہ سے فارغ ہو کر ایک مینڈھا منگوا کر خود ذبح کیا اور فرمایا: ”«بِسْمِ اللّٰهِ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ» بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! میری اور میری امت کے اس شخص کی جانب سے جس نے قربانی نہیں کی۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما دونوں قربانی نہ کرتے اس ڈر سے کہ کہیں لوگ ان کی اقتدا شروع نہ کردیں۔ یہ اس شخص کا گمان ہے جس کا گمان ہے کہ یہ واجب ہے۔