السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
ثُمَّ قَالَ: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَاحْتُمِلَ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أَنَّ الضَّحِيَّةَ وَاجِبَةٌ، وَاحْتَمَلَ أَمْرُهُ أَنْ يَكُونَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ؛ لَأَنَّ الضَّحِيَّةَ قَبْلَ الْوَقْتِ لَيْسَتْ بِضَحِيَّةٍ تُجْزِيهِ فَيَكُونُ مِنْ عِدَادِ مَنْ ضَحَّى فَوَجَدْنَا الدَّلَالَةَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الضَّحِيَّةَ لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ لَا يَحِلُّ تَرْكُهَا وَهِيَ سُنَّةٌ نُحِبُّ لُزُومَهَا وَنَكْرَهُ تَرْكَهَا لَا عَلَى إِيجَابِهَا، فَإِنْ قِيلَ: فَأَيْنَ السُّنَّةُ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهَا لَيْسَتْ بِوَاجِبَةٍ، قِيلَ:.امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید قربانی کے واجب ہونے کی وجہ سے اعادہ کا حکم فرمایا اور یہ بھی احتمال ہے کہ اگر دوبارہ قربانی کا ارادہ ہو تو کر لے اور وقت سے پہلے والی قربانی کفایت نہ کرے گی۔ قربانی اگرچہ واجب نہیں لیکن اس کا ترک کر دینا بھی جائز نہیں ہے۔ سنت ہونے کے باوجود اس کے لزوم کو ہم پسند کرتے ہیں اور ترک کو ناپسند کرتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ سنت ہونا عدم وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
(ب) ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عشرہ ذی الحج شروع ہو جائے تو قربانی کا ارادہ کرنے والا شخص اپنے جسم کے کسی حصہ سے بال نہ اکھاڑے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ قربانی واجب نہیں ہے، کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو قربانی کا ارادہ کرے“ اگر قربانی واجب ہوتی تو آپ ﷺ یوں نہ فرماتے بلکہ یہ کہہ دیتے کہ کوئی اپنے بال نہ کٹوائے یہاں تک کہ قربانی کر لے۔
شیخ فرماتے ہیں: براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ ارشاد فرمایا: ”اس دن سب سے پہلا کام نماز ادا کرنا ہے پھر قربانی کرنا۔ جس نے یہ کام کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔“