السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ ⦗٤٤٣⦘ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ وَلَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الضُّحَى ".حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین چیزیں میرے اوپر فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل: قربانی کرنا، وتر پڑھنا، اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنا۔“