السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الضحايا— قربانى کا بیان
باب: الأضحية سنة نحب لزومها ونكره تركها باب: قربانی ایک سنت ہے، ہم اس کی پابندی کو پسند کرتے ہیں اور اسے ترک کرنے کو ناپسند کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 19039
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَوَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَدَعَ الْأُضْحِيَّةَ وَإِنِّي لَمِنْ أَيْسَرِكُمْ؛ مَخَافَةَ أَنْ تَحْسَبَ النَّفْسُ أَنَّهَا عَلَيْهَا حَتْمٌ وَاجِبٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مالداری کے باوجود قربانی چھوڑ دی تاکہ ذہن اس کو اپنے اوپر فرض قرار نہ دے۔