کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِ بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا " فَقَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: فَتَلَاعَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے عاصم! اگر مرد اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے، پھر تم اس کو قتل کرو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ اے عاصم! رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں میرے لیے سوال کرو۔“ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ کو یہ اچھا نہ لگا اور سائل پر عیب لگایا، سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ بات گراں گزری۔ جب سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ گھر آئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ وہ کہنے لگے: ”عاصم! رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟“ تو سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تجھ سے بھی بھلائی کی توقع نہیں، رسول اللہ ﷺ نے میرے سوال کرنے کو ناپسند فرمایا۔“ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں سوال کرنے سے باز نہ آؤں گا۔“ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جب آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تھے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کرے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہو چکا، جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔“ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کیا، میں بھی لوگوں کے ساتھ موجود تھا۔ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے فراغت کے بعد کہا: ”اگر میں اس کو روکے رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ اور فوری تین طلاقیں دے دیں، رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی۔ امام ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الشِّيرَازِيُّ الْفَقِيهُ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالُوا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
خالی
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ بْنَ عَدِيٍّ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَا صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ⦗٦٥٥⦘ فِيهِمَا " فَدَعَاهُمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا " فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَئِنِ انْطَلَقْتَ بِهَا لَقَدْ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا "، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم بن عدی! ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کریں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، اگر وہ قتل کرے تو کیا اسے قتل کیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اس پر عیب لگایا، عویمر رضی اللہ عنہ نے عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا کیا بھئی؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا، تیری طرف سے بھلائی نہیں آئی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے سوال کرنے والے پر عیب لگایا، تو عویمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر ضرور سوال کروں گا، جب عویمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو ان کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو بلا کر لعان کروا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو ساتھ لے کر جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی بیوی کو جدا کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا، اگر یہ زیادہ سیاہ، موٹے بڑے بڑے سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر سچا ہے، اگر بچہ سرخ رنگ کا ہو گویا کہ وحرہ ہے پھر میرا خیال ہے کہ عویمر جھوٹا ہے۔“ اس عورت نے انہیں مکروہ اوصاف پر بچے کو جنم دیا، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمٍ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَتَقْتُلُونَهُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا فَرَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى عُوَيْمِرٍ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ خِلَافَ عَاصِمٍ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا الْقُرْآنُ فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا " ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا " فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا کیا خیال ہے ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی کے پاس کسی دوسرے مرد کو پاتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے، کیا تم اس کے بدلے اس کو قتل کرو گے؟ اے عاصم! رسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر بتاؤ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے سوال کو ناپسند فرمایا، عاصم رضی اللہ عنہ عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بتایا کہ نبی ﷺ نے سوال کو ناپسند کرتے ہوئے اس پر عیب لگایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں خود رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتا ہوں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو قرآن عاصم (کے سوال) کے متعلق نازل ہو چکا تھا، عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔“ پھر ان دونوں نے آ کر لعان کیا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، پھر اس نے نبی ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اسے جدا کر دیا۔ یہ طریقہ دو لعان کرنے والوں کے متعلق گزر چکا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس عورت کا انتظار کرو، اگر یہ سرخ رنگ، چھوٹے قد، گویا کہ خچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے جھوٹ بولا ہے اور اگر یہ سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو اس نے عویمر کی تصدیق والے اوصاف پر ہی بچے کو جنم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ " أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا أَيِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهُ يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ بنو ساعدہ کے ایک شخص سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر آپ اس (قاتل) کو قتل کریں گے یا وہ کیا کرے؟“ تو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم نازل فرما دیا۔ نبی ﷺ نے (اس سے) فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا، ان دونوں کے لعان کے وقت میں بھی موجود تھا، پھر اس نے نبی ﷺ کے پاس ہی اپنی بیوی کو چھوڑ دیا، پھر یہی طریقہ جاری رہا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جاتی ہے۔ وہ عورت حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کا انکار کر دیا، پھر بیٹے کو ماں کی طرف منسوب کر دیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ قَالَ: فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ قَالَ: كَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ كَأَنَّهُ قَوْلُ ابْنِ شِهَابٍ، وَقَدْ يَكُونُ هَذَا غَيْرَ مُخْتَلِفٍ يَقُولُهُ مَرَّةً ⦗٦٥٦⦘ ابْنُ شِهَابٍ وَلَا يَذْكُرُ سَهْلًا، وَيَقُولُهُ أُخْرَى وَيَذْكُرُ سَهْلًا، وَوَافَقَ ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ فِيمَا زَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ عَلَى حَدِيثِ مَالِكٍ، قَالَ الشَّيْخُ: أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”دو لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ طریقہ ہے۔“
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ أَحْمَدَ الثَّقَفِيُّ نا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، نا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نَافِعٍ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَا: نا إِسْحَاقُ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهِمَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَحَدِ بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلَاعُنِ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَالَ ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: كَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لِأُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا أَوْحَرَ فَمَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا " فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ سِوَاهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنْهُمُ الْأَوْزَاعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج، ابن شہاب رحمہما اللہ سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اور ان کے طریقے کے متعلق سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ایک انصاری شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا کیا کرے؟“ تو اللہ رب العزت نے دو لعان کرنے والوں کے معاملے کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی موجود تھا، جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اسے بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔“ اس نے نبی ﷺ کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں، لعان سے فراغت کے بعد اور اس نے نبی ﷺ کے پاس ہی بیوی کو جدا کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کا طریقہ ہے۔
ابن جریج اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں: دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کا ان کے بعد یہ طریقہ بن گیا اور وہ عورت حاملہ تھی اور بچے کی نسبت ماں کی طرف کی گئی اور وراثت میں یہ طریقہ جاری ہوا کہ یہ عورت بچے کی اور بچہ ماں کا وارث ہو گا، جتنا حصہ اللہ رب العزت نے ان دونوں کے لیے مقرر کیا۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ سرخ رنگ، چھوٹے قد کا کھچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے اس عورت نے سچ بولا اور عویمر نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں والا، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق والے اوصاف پر بچے کو جنم دیا۔
ابن جریج اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں: دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کا ان کے بعد یہ طریقہ بن گیا اور وہ عورت حاملہ تھی اور بچے کی نسبت ماں کی طرف کی گئی اور وراثت میں یہ طریقہ جاری ہوا کہ یہ عورت بچے کی اور بچہ ماں کا وارث ہو گا، جتنا حصہ اللہ رب العزت نے ان دونوں کے لیے مقرر کیا۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ سرخ رنگ، چھوٹے قد کا کھچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے اس عورت نے سچ بولا اور عویمر نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں والا، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق والے اوصاف پر بچے کو جنم دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ ⦗٦٥٧⦘ سُفْيَانَ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَارِيَابِيُّ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدَ بَنِي الْعَجْلَانِ قَالَ: كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: سَلْ لي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، فَسَأَلَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَنْزَلَ اللهُ الْقُرْآنَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ " فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا سَمَّى اللهُ فِي كِتَابِهِ قَالَ: فَلَاعَنَهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ بَعْدُ سُنَّةً لِمَنْ كَانَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وقَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا " قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأُمِّهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَذَكَرَ فِيهِ فَتَلَاعَنَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ بنو عجلان کے سردار تھے، انہوں نے کہا: ”آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے، کیا وہ اس کو قتل کر دے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟ آپ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھیں۔“ راوی کہتے ہیں: عاصم رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، کیا وہ اس کو قتل کر دے پھر آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے سوال کرنے والے کو ناپسند جانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سوال کو ناپسند کیا اور اس پر عیب لگایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں ضرور پوچھوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: عویمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے تو کیا وہ اس کو قتل کر دے، پھر آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں قرآن نازل کر دیا ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو لعان کا حکم دیا، جس کا نام اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں لیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ”اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے طلاق دے دی تو اس کے بعد لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انتظار کرو، اگر یہ عورت سیاہ رنگ، سیاہ آنکھیں، بھاری سرین اور موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے اور اگر یہ عورت سرخ رنگ، گویا کہ کھچیرا بچہ دے، تو میرا گمان ہے کہ عویمر نے عورت پر جھوٹ بولا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق کے لیے ان اوصاف پر بچے کو جنم دیا جو رسول اللہ ﷺ نے بیان کیے تھے، تو اس کے بچے کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کروا دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔“
(ب) امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کروا دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، نا ابْنُ أَبِي حَسَّانَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ وَهُوَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي حَسَّانَ نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا الْوَلِيدُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ قَالَا: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ فَذَكَرَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قِصَّةَ الطَّلَاقِ وَمِنْهُمْ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحَمَدٍ التَّاجِرُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، نا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا⦗٦٥٨⦘ بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَهْلٌ: وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى. وَمِنْهُمْ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے“، پھر انہوں نے نبی ﷺ کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ ان دونوں کی جدائی بعد میں لعان کرنے والوں کے لیے سنت بن گئی، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ حاملہ تھی اور بیٹے کو ماں کی جانب منسوب کیا جاتا تھا، پھر یہی طریقہ جاری ہو گیا کہ ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا وارث ہو جو اللہ نے ان کے حصے مقرر کیے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَمَّادِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَوِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الصَّيْرَفِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، وَكَانَتِ السُّنَّةُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا. قَالَ أَبُو يَعْلَى: " قَدْ قُضِيَ فِيكَ " قَالَ هُوَ وَالْحَسَنُ: فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا " وَقَالَا: فَكَانَتْ سُنَّةً بَيْنَهُمْ، وَحَدِيثُهُمْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَاحِدٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ. وَمِنْهُمْ عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
امام زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو آپ اس کو (قصاص میں) قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟ اللہ رب العزت نے لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں حکم نازل فرما دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان دونوں کے لعان کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، اس نے اس کو جدا کر دیا اور سنت بھی یہی ہے کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ عورت حاملہ تھی، خاوند نے حمل کا انکار کر دیا، بچے کی نسبت ماں کی طرف کر دی گئی اور اللہ نے جو حصہ وراثت میں ماں بیٹے کا رکھا ہے، وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ ابو یعلیٰ کہتے ہیں: ”تیرے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے“، ابوالحسن کہتے ہیں: اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَصَارَ مَا صُنِعَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةً، قَالَ سَهْلٌ: وَحَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " وَمِنْهُمْ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ، وَزَادَ فِيهِ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں نافذ بھی فرما دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کیے گئے کام کو سنت ٹھہرا دیا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، بعد میں لعان کرنے والوں کے لیے یہی سنت مقرر کر دی گئی کہ ان کے درمیان تفریق ڈال دی جائے گی، پھر وہ کبھی جمع نہ ہوں گے۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّعْدِيَّ يَقُولُ: " شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَنَا أَمْسَكْتُهَا " ⦗٦٥٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، ان میں تفریق کروا دی گئی۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اس کو بیوی بنا کر رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يُتَابِعِ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِذَلِكَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ.
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی کسی ایک نے بھی متابعت نہیں کی کہ آپ ﷺ نے لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈال دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: فَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَخَوَيْ بَنِي عَجْلَانَ، وَقَالَ هَكَذَا بِأُصْبُعِهِ الْمُسَبِّحَةِ وَالْوُسْطَى فَقَرَنَهُمَا، الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِيهَا يَعْنِي الْمُسَبِّحَةَ، وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ؟ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَإِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ. وَرَوَاهُ عَزْرَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو عجلان کے دو بھائیوں میں تفریق کروائی۔
(ب) آپ ﷺ نے شہادت والی انگلی اور وسطیٰ کو ملایا اور فرمایا: ”بلاشبہ تم سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کے لیے تیار ہے؟“
(ج) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی۔
(ب) آپ ﷺ نے شہادت والی انگلی اور وسطیٰ کو ملایا اور فرمایا: ”بلاشبہ تم سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کے لیے تیار ہے؟“
(ج) سعید بن جبیر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ، يَقُولُ: أنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: " حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ، لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ مَالِي، قَالَ: " لَا مَالَ لَكَ، إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا، وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا أَوْ مِنْهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَجَمَاعَةٌ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کو فرمایا: ”تمہارا حساب اللہ کے سپرد، تم میں سے ایک جھوٹا ہے۔ تیرا اپنی بیوی پر کوئی اختیار نہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا مال؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرا کوئی مال نہیں۔ اگر تو نے اس پر سچ بولا ہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھانے کے عوض ختم۔ اگر تو نے اس پر جھوٹ بولا ہے تو یہ تو پھر اس سے بھی دور کی بات ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ⦗٦٦٠⦘ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " قَدْ فَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
عذرہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کروائی۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تھی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُحْتَمَلُ طَلَاقُهُ ثَلَاثًا، يَعْنِي فِي حَدِيثِ سَهْلٍ أَنْ يَكُونَ بِمَا وَجَدَ فِي نَفْسِهِ بِعِلْمِهِ بِصِدْقِهِ وَكَذِبِهَا وَجُرْأَتِهَا عَلَى النَّهْيِ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَاهِلًا بِأَنَّ اللِّعَانَ فُرْقَةٌ، فَكَانَ كَمَنْ طَلَّقَ مَنْ طَلَّقَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ طَلَاقِهِ وَكَمَنْ شَرَطَ الْعُهْدَةَ فِي الْبَيْعِ، وَالضَّمَانَ فِي السَّلَفِ، وَهُوَ يَلْزَمُهُ شَرَطَ أَوْ لَمْ يَشْرِطْ، قَالَ: وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَتَفْرِيقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ فُرْقَةِ الزَّوْجِ إِنَّمَا هُوَ تَفْرِيقُ حُكْمٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا فِي حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا جُلِدَ الْحَدَّ، وَلَيْسَ لَهَا عَلَيْهِ قُوتٌ وَلَا سُكْنَى؛ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا "، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تُؤَكِّدُ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اپنے بچے کا انکار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کروا دی اور بچہ عورت کو دے دیا۔
نوٹ: سہل کی حدیث میں تین طلاقوں کا احتمال ہے؛ کیونکہ انہیں اپنے بارے میں سچائی کا علم تھا اور بیوی کے جھوٹے ہونے کا یقین اور اس کے انکار پر جرأت کی وجہ سے انہوں نے تین طلاقیں لاعلمی کی وجہ سے دے دیں، کیونکہ لعان بذاتِ خود جدائی ہے۔ جیسا کہ بیع سلف میں عہد کی شرط لگانا حالانکہ یہ لازم ہی ہوتا ہے شرط لگائے یا نہ لگائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تو نبی ﷺ کا تفریق کروانا یہ خاوند کے الگ کرنے کے علاوہ ہے، یہ تو آپ ﷺ نے تفریق کا حکم دیا ہے۔
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ والدہ اور بچے کو عار نہ دلائی جائے اور جو کوئی تہمت لگائے اسے حد لگائی جائے اور اس عورت کے لیے خوراک، رہائش نہ ہوگی؛ کیونکہ ان کے درمیان تفریق طلاق اور وفات کے بغیر ہوئی ہے۔
نوٹ: سہل کی حدیث میں تین طلاقوں کا احتمال ہے؛ کیونکہ انہیں اپنے بارے میں سچائی کا علم تھا اور بیوی کے جھوٹے ہونے کا یقین اور اس کے انکار پر جرأت کی وجہ سے انہوں نے تین طلاقیں لاعلمی کی وجہ سے دے دیں، کیونکہ لعان بذاتِ خود جدائی ہے۔ جیسا کہ بیع سلف میں عہد کی شرط لگانا حالانکہ یہ لازم ہی ہوتا ہے شرط لگائے یا نہ لگائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تو نبی ﷺ کا تفریق کروانا یہ خاوند کے الگ کرنے کے علاوہ ہے، یہ تو آپ ﷺ نے تفریق کا حکم دیا ہے۔
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ والدہ اور بچے کو عار نہ دلائی جائے اور جو کوئی تہمت لگائے اسے حد لگائی جائے اور اس عورت کے لیے خوراک، رہائش نہ ہوگی؛ کیونکہ ان کے درمیان تفریق طلاق اور وفات کے بغیر ہوئی ہے۔