حدیث نمبر: 15318
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ ⦗٦٥٧⦘ سُفْيَانَ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى نا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَارِيَابِيُّ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدَ بَنِي الْعَجْلَانِ قَالَ: كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: سَلْ لي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: فَأَتَى عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، فَسَأَلَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَنْزَلَ اللهُ الْقُرْآنَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ " فَأَمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا سَمَّى اللهُ فِي كِتَابِهِ قَالَ: فَلَاعَنَهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: فَطَلَّقَهَا، وَكَانَتْ بَعْدُ سُنَّةً لِمَنْ كَانَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْصِرُوا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وقَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا وَقَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا " قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، قَالَ: فَكَانَ يُنْسَبُ بَعْدَ ذَلِكَ لِأُمِّهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فَذَكَرَ فِيهِ فَتَلَاعَنَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَقَالَ: " لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ".
حافظ ثناء اللہ

امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور وہ بنو عجلان کے سردار تھے، انہوں نے کہا: ”آپ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پائے، کیا وہ اس کو قتل کر دے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟ آپ رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں پوچھیں۔“ راوی کہتے ہیں: عاصم رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، کیا وہ اس کو قتل کر دے پھر آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے سوال کرنے والے کو ناپسند جانا۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سوال کو ناپسند کیا اور اس پر عیب لگایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں ضرور پوچھوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: عویمر رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے تو کیا وہ اس کو قتل کر دے، پھر آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں قرآن نازل کر دیا ہے۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کو لعان کا حکم دیا، جس کا نام اللہ رب العزت نے اپنی کتاب میں لیا ہے۔ راوی کہتے ہیں: ان دونوں نے لعان کیا۔ پھر انہوں نے کہا: ”اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے طلاق دے دی تو اس کے بعد لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم انتظار کرو، اگر یہ عورت سیاہ رنگ، سیاہ آنکھیں، بھاری سرین اور موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر نے اس عورت کے بارے میں سچ کہا ہے اور اگر یہ عورت سرخ رنگ، گویا کہ کھچیرا بچہ دے، تو میرا گمان ہے کہ عویمر نے عورت پر جھوٹ بولا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق کے لیے ان اوصاف پر بچے کو جنم دیا جو رسول اللہ ﷺ نے بیان کیے تھے، تو اس کے بچے کو ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ، سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کروا دی اور فرمایا: ”یہ کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15318
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»