السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحَمَدٍ التَّاجِرُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، نا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْأَنْصَارِيَّ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا⦗٦٥٨⦘ بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَهْلٌ: وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى. وَمِنْهُمْ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ.سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی، جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے“، پھر انہوں نے نبی ﷺ کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ ان دونوں کی جدائی بعد میں لعان کرنے والوں کے لیے سنت بن گئی، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ حاملہ تھی اور بیٹے کو ماں کی جانب منسوب کیا جاتا تھا، پھر یہی طریقہ جاری ہو گیا کہ ماں بیٹے کی اور بیٹا ماں کا وارث ہو جو اللہ نے ان کے حصے مقرر کیے۔