السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 15324
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يُتَابِعِ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ الشَّيْخُ: يَعْنِي بِذَلِكَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ إِلَّا مَا رُوِّينَا عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ.حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عیینہ رحمہ اللہ کی کسی ایک نے بھی متابعت نہیں کی کہ آپ ﷺ نے لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈال دی۔