السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ " أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ ثُمَّ فَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتْ سُنَّةً بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا أَيِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهُ يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ".ابن شہاب رحمہ اللہ بنو ساعدہ کے ایک شخص سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا وہ اسے قتل کر دے، پھر آپ اس (قاتل) کو قتل کریں گے یا وہ کیا کرے؟“ تو اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں لعان کرنے والوں کے متعلق حکم نازل فرما دیا۔ نبی ﷺ نے (اس سے) فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ ان دونوں نے لعان کیا، ان دونوں کے لعان کے وقت میں بھی موجود تھا، پھر اس نے نبی ﷺ کے پاس ہی اپنی بیوی کو چھوڑ دیا، پھر یہی طریقہ جاری رہا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جاتی ہے۔ وہ عورت حاملہ تھی تو خاوند نے اس کے حمل کا انکار کر دیا، پھر بیٹے کو ماں کی طرف منسوب کر دیا گیا۔