السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 15323
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، أنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّعْدِيَّ يَقُولُ: " شَهِدْتُ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَنَا أَمْسَكْتُهَا " ⦗٦٥٩⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..حافظ ثناء اللہ
امام زہری رحمہ اللہ، سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے دور میں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا، ان میں تفریق کروا دی گئی۔ اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اس کو بیوی بنا کر رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔“