حدیث نمبر: 15310
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرَ الْعَجْلَانِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ: أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِ بِخَيْرٍ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَطَ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا " فَقَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ: فَتَلَاعَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَ النَّاسِ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانَتْ تِلْكَ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سہل بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”اے عاصم! اگر مرد اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے، پھر تم اس کو قتل کرو گے یا پھر وہ کیا کرے؟ اے عاصم! رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں میرے لیے سوال کرو۔“ سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ کو یہ اچھا نہ لگا اور سائل پر عیب لگایا، سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ کو بھی یہ بات گراں گزری۔ جب سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ گھر آئے تو سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ بھی آگئے۔ وہ کہنے لگے: ”عاصم! رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا؟“ تو سیدنا عاصم رضی اللہ عنہ نے سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تجھ سے بھی بھلائی کی توقع نہیں، رسول اللہ ﷺ نے میرے سوال کرنے کو ناپسند فرمایا۔“ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میں سوال کرنے سے باز نہ آؤں گا۔“ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے جب آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تھے۔ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! جب کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اس کو قتل کرے تو آپ اس کو قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟“ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہو چکا، جاؤ اپنی بیوی کو لے کر آؤ۔“ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس لعان کیا، میں بھی لوگوں کے ساتھ موجود تھا۔ سیدنا عویمر رضی اللہ عنہ نے فراغت کے بعد کہا: ”اگر میں اس کو روکے رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا، اے اللہ کے رسول ﷺ!“ اور فوری تین طلاقیں دے دیں، رسول اللہ ﷺ کے حکم سے پہلے ہی۔ امام ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15310
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»