❮
❯
حدیث نمبر: 15328
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا " فَفَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يُحْتَمَلُ طَلَاقُهُ ثَلَاثًا، يَعْنِي فِي حَدِيثِ سَهْلٍ أَنْ يَكُونَ بِمَا وَجَدَ فِي نَفْسِهِ بِعِلْمِهِ بِصِدْقِهِ وَكَذِبِهَا وَجُرْأَتِهَا عَلَى النَّهْيِ، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا جَاهِلًا بِأَنَّ اللِّعَانَ فُرْقَةٌ، فَكَانَ كَمَنْ طَلَّقَ مَنْ طَلَّقَ عَلَيْهِ بِغَيْرِ طَلَاقِهِ وَكَمَنْ شَرَطَ الْعُهْدَةَ فِي الْبَيْعِ، وَالضَّمَانَ فِي السَّلَفِ، وَهُوَ يَلْزَمُهُ شَرَطَ أَوْ لَمْ يَشْرِطْ، قَالَ: وَزَادَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَتَفْرِيقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ فُرْقَةِ الزَّوْجِ إِنَّمَا هُوَ تَفْرِيقُ حُكْمٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رَوَيْنَا فِي حَدِيثِ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قِصَّةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ لَا تُرْمَى وَلَا يُرْمَى وَلَدُهَا، وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا جُلِدَ الْحَدَّ، وَلَيْسَ لَهَا عَلَيْهِ قُوتٌ وَلَا سُكْنَى؛ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفًّى عَنْهَا "، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تُؤَكِّدُ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ

نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اپنے بچے کا انکار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان تفریق کروا دی اور بچہ عورت کو دے دیا۔
نوٹ: سہل کی حدیث میں تین طلاقوں کا احتمال ہے؛ کیونکہ انہیں اپنے بارے میں سچائی کا علم تھا اور بیوی کے جھوٹے ہونے کا یقین اور اس کے انکار پر جرأت کی وجہ سے انہوں نے تین طلاقیں لاعلمی کی وجہ سے دے دیں، کیونکہ لعان بذاتِ خود جدائی ہے۔ تو وہ اس شخص کی طرح ہوئے جو ایسی عورت کو طلاق دے جو اس کی طلاق کے بغیر ہی اس سے جدا ہو چکی ہو، اور جیسا کہ بیع میں عہد کی شرط لگانا اور سلف میں ضمانت کی شرط لگانا حالانکہ یہ لازم ہی ہوتا ہے شرط لگائے یا نہ لگائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تو نبی ﷺ کا تفریق کروانا یہ خاوند کے الگ کرنے کے علاوہ ہے، یہ تو آپ ﷺ نے تفریق کا حکم دیا ہے۔
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہلال بن امیہ کے قصے میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ والدہ اور بچے کو عار نہ دلائی جائے اور جو کوئی تہمت لگائے اسے حد لگائی جائے اور اس عورت کے لیے خوراک، رہائش نہ ہوگی؛ کیونکہ ان کے درمیان تفریق طلاق اور وفات کے بغیر ہوئی ہے۔
یہ روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی تائید کرتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15328
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»