السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ أَبُو عَمْرٍو الْبِسْطَامِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَمَّادِيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ النَّسَوِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الصَّيْرَفِيُّ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ السُّلَمِيُّ الْبَصْرِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، وَكَانَتِ السُّنَّةُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا. قَالَ أَبُو يَعْلَى: " قَدْ قُضِيَ فِيكَ " قَالَ هُوَ وَالْحَسَنُ: فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا " وَقَالَا: فَكَانَتْ سُنَّةً بَيْنَهُمْ، وَحَدِيثُهُمْ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَاحِدٌ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ. وَمِنْهُمْ عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ.امام زہری سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھتا ہے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو آپ اس کو (قصاص میں) قتل کر دیں گے یا وہ کیا کرے؟ اللہ رب العزت نے لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں حکم نازل فرما دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ان دونوں کے لعان کے وقت میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، اس نے اس کو جدا کر دیا اور سنت بھی یہی ہے کہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ عورت حاملہ تھی، خاوند نے حمل کا انکار کر دیا، بچے کی نسبت ماں کی طرف کر دی گئی اور اللہ نے جو حصہ وراثت میں ماں بیٹے کا رکھا ہے، وہ دونوں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ ابو یعلیٰ کہتے ہیں: ”تیرے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہے“، ابوالحسن کہتے ہیں: اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں۔