السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ بْنَ عَدِيٍّ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ فَلَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَا صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ ⦗٦٥٥⦘ فِيهِمَا " فَدَعَاهُمَا فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا " فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَئِنِ انْطَلَقْتَ بِهَا لَقَدْ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَمَا أَرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا "، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ.سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عویمر عجلانی، سیدنا عاصم بن عدی رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم بن عدی! ایسے شخص کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کریں جو اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاتا ہے، اگر وہ قتل کرے تو کیا اسے قتل کیا جائے گا یا وہ کیا کرے؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے اس پر عیب لگایا، عویمر رضی اللہ عنہ نے عاصم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا کیا بھئی؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کچھ نہیں کیا، تیری طرف سے بھلائی نہیں آئی، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تھا تو آپ ﷺ نے سوال کرنے والے پر عیب لگایا، تو عویمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر ضرور سوال کروں گا، جب عویمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے تو ان کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا تھا۔ آپ ﷺ نے ان کو بلا کر لعان کروا دیا، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو ساتھ لے کر جاؤں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی بیوی کو جدا کر دیا، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا خیال رکھنا، اگر یہ زیادہ سیاہ، موٹے بڑے بڑے سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے کہ عویمر سچا ہے، اگر بچہ سرخ رنگ کا ہو گویا کہ وحرہ ہے پھر میرا خیال ہے کہ عویمر جھوٹا ہے۔“ اس عورت نے انہیں مکروہ اوصاف پر بچے کو جنم دیا، ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کا طریقہ ہے۔