کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس بیان میں کہ بچہ بستر والے (شوہر) ہی کا ہوگا جب تک کہ بستر کا مالک (شوہر) لعان کے ذریعے اس کی نفی نہ کر دے۔
حدیث نمبر: 15329
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَوْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - الشَّكُّ مِنْ سُفْيَانَ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بْنِ حَمَّادٍ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا سفیان سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ بستر والے کا ہے اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15329
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 15330
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ كَانَ يَسْكُنُ دَارَنَا فَذَهَبْتُ مَعَهُ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ عَنْ وِلَادٍ مِنْ وِلَادِ الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ: أَمَّا الْفِرَاشُ فَلِفُلَانٍ وَأَمَّا النُّطْفَةُ فَلِفُلَانٍ فَقَالَ عُمَرُ: صَدَقْتَ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى بِالْفِرَاشِ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن ابی یزید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بنو زہرہ کے ایک بزرگ کی جانب پیغام بھیجا، وہ ہمارے گھر میں رہتے تھے تو میں انہیں لے کر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے جاہلیت کی اولاد کے بارے میں پوچھا اور کہا: بستر کسی کا اور نطفہ کسی کا؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ ”بستر والے کے لیے“ کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15330
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو يَحْيَى، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، نا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَبَاحٍ أَنَّهُ قَالَ: زَوَّجَنِي أَهْلِي أَمَةً لَهُمْ رُومِيَّةً فَوَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عَبْدَ اللهِ ثم وَقَعْتُ عَلَيْهَا فَوَلَدَتْ لِي غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِي فَسَمَّيْتُهُ عُبَيْدَ اللهِ قََالَ: فَطَبَنَ لَهَا غُلَامٌ لِأَهْلِي يُقَالُ لَهُ بِرْجِيسَ فَرَاطَنَهَا بِلِسَانِهِ فَوَلَدَتْ غُلَامًا كَأَنَّهُ وَزَغَةٌ، فَقُلْتُ لَهَا: مَا هَذَا؟ فَقَالَتْ: هُوَ ابْنُ بِرْجِيسَ فَرُفِعَتْ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: فَسَأَلَهَا فَاعْتَرَفَتْ فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَرْضَيَانِ أَنْ أَقْضِيَ بَيْنَكُمَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ " قَالَ مَهْدِيٌّ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ، لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ يُوحَنَّهْ قَالَ: أَحْسَبُهُ قَالَ: مَهْدِيٌّ فَسَأَلَهُمَا فَاعْتَرَفَا وَقَالَ فِي آخِرِهِ قَالَ: فَجَلَدَهَا وَجَلَدَهُ وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَكَانَا مَمْلُوكَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
حسن بن سعد، رباح سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے اپنی رومی لونڈی سے میری شادی کر دی، میں اس پر داخل ہوا تو اس نے سیاہ بچہ جنم دیا، میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔ پھر میں اس پر واقع ہوا، پھر اس نے میرے جیسا سیاہ بچہ جنم دیا تو میں نے اس کا نام عبیداللہ رکھ دیا۔ کہتے ہیں کہ ہمارے ایک غلام کا اس سے تعلق قائم ہو گیا، جس کا نام یوحنس تھا، اس نے فارسی زبان میں بات کی تو اس نے چھپکلی جیسا بچہ جنم دیا، میں نے اس سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ یوحنس کا بیٹا ہے۔ تو معاملہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا، جب لونڈی سے سوال ہوا تو اس نے اعتراف کر لیا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا تم دونوں راضی ہو کہ میں تمہارے درمیان رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی مانند فیصلہ کروں؟ رسول اللہ ﷺ نے ”بچے کا فیصلہ صاحبِ فراش (جس کے بستر پر پیدا ہو) کے لیے کیا ہے۔“ مہدی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ غلام اور لونڈی کو کوڑے مارے گئے۔
(ب) روذباری کی روایت میں یوحنہ ہے، فرماتے ہیں: میرے گمان میں مہدی نے کہا کہ جب ان دونوں (غلام اور لونڈی) سے سوال ہوا تو انہوں نے اعتراف کیا۔ اس کے آخر میں ہے کہ ان دونوں کو کوڑے لگائے گئے اور وہ دونوں غلام تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15331
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15332
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ رَبَاحٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَقَالَ فِي آخِرِهِ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرَ، هُوَ ابْنُكَ تَرِثُهُ وَيَرِثُكَ، قُلْتُ سُبْحَانَ اللهِ، قَالَ: هُوَ ذَاكَ فَكُنْتُ أُنَيِّمُهُ بَيْنَهُمَا هَذَانِ أَسْوَدَانِ وَهَذَا أَبْيَضُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب، رباح سے اس کے ہم معنیٰ نقل فرماتے ہیں اور اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”بچے کا فیصلہ بستر والے کے لیے دیا اور زانی کے لیے پتھر ہیں۔ وہ تیرا بیٹا ہے، تو اس کا وارث ہے، وہ تیرا وارث ہے۔“ میں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ!“ میں اس کی نسبت ان دونوں کے درمیان کرتا ہوں، یہ دونوں سیاہ ہیں اور یہ سفید۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15332
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»