حدیث نمبر: 15317
وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ فَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ قَالَا: نا إِسْحَاقُ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهِمَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَحَدِ بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ " قَالَ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلَاعُنِ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَقَالَ ذَاكَ تَفْرِيقٌ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: كَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدَهُمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ وَكَانَتْ حَامِلًا وَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى لِأُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي مِيرَاثِهَا أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مِنْهَا مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا أَوْحَرَ فَمَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا " فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَقَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ سِوَاهُمْ عَنِ الزُّهْرِيِّ مِنْهُمُ الْأَوْزَاعِيُّ.
حافظ ثناء اللہ

ابن جریج، ابن شہاب رحمہما اللہ سے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں اور ان کے طریقے کے متعلق سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ ایک انصاری شخص نبی ﷺ کے پاس آیا، اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی شخص کو پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کر دے یا کیا کرے؟“ تو اللہ رب العزت نے دو لعان کرنے والوں کے معاملے کے بارے میں قرآن نازل فرما دیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تیرا اور تیری بیوی کا فیصلہ فرما دیا۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے مسجد میں لعان کیا اور میں بھی موجود تھا، جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو اس نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اسے بیوی بنائے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے۔“ اس نے نبی ﷺ کے حکم سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں، لعان سے فراغت کے بعد اور اس نے نبی ﷺ کے پاس ہی بیوی کو جدا کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: یہ دو لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کا طریقہ ہے۔
ابن جریج اور ابن شہاب رحمہما اللہ کہتے ہیں: دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کا ان کے بعد یہ طریقہ بن گیا اور وہ عورت حاملہ تھی اور بچے کی نسبت ماں کی طرف کی گئی اور وراثت میں یہ طریقہ جاری ہوا کہ یہ عورت بچے کی اور بچہ ماں کا وارث ہو گا، جتنا حصہ اللہ رب العزت نے ان دونوں کے لیے مقرر کیا۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ سرخ رنگ، چھوٹے قد کا کھچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے اس عورت نے سچ بولا اور عویمر نے جھوٹ بولا ہے۔ اگر یہ عورت سرمیلی آنکھوں والا، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو عورت نے عویمر رضی اللہ عنہ کی تصدیق والے اوصاف پر بچے کو جنم دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15317
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»