باب: اس بیان میں کہ شوہر اپنی بیوی پر تہمت لگائے تو وہ اس تہمت کے وبال سے اس طرح نکلے گا کہ یا تو وہ ایسے چار گواہ لائے جو اس پر زنا کی گواہی دیں یا پھر وہ لعان کرے۔
حدیث 15291–15292
باب: ان شوہروں کا بیان جو لعان کر سکتے ہیں اور جو لعان نہیں کر سکتے۔
حدیث 15293–15304
باب: لعان کہاں کیا جائے، اس کا بیان۔
حدیث 15305–15309
باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
حدیث 15310–15328
باب: اس بیان میں کہ بچہ بستر والے (شوہر) ہی کا ہوگا جب تک کہ بستر کا مالک (شوہر) لعان کے ذریعے اس کی نفی نہ کر دے۔
حدیث 15329–15332
باب: عورت کا کسی قوم میں ایسے بچے کو شامل کرنے کی سختی (وعید) کا بیان جو ان میں سے نہ ہو، اور مرد کا اپنے بچے کی نفی کرنے کا بیان۔
حدیث 15333–15334
باب: اس شخص کا بیان جس کی نسبت اس کے (حقیقی) باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی جائے۔
حدیث 15335–15337
باب: میاں بیوی کا مومنوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں لعان کرنے کا بیان۔
حدیث 15338–15339
باب: لعان کس طرح کیا جائے؟
حدیث 15340–15343
باب: حمل پر لعان کرنے کا بیان۔
حدیث 15344–15350
باب: یہ فصل اس شخص سے سوال کرنے کے بیان میں ہے جس پر عورت کے ساتھ (زنا کی) تہمت لگائی گئی ہو۔
حدیث 15351–15351
باب: شوہر کے لعان کر لینے کے بعد جدائی واقع ہونے، بچے کی نفی ہونے، اور اگر عورت لعان نہ کرے تو اس پر حد لگنے کا بیان۔
حدیث 15352–15360
باب: اس بیان میں کہ لعان نہیں ہوتا یہاں تک کہ مرد اپنی بیوی پر صریح الفاظ میں زنا کی تہمت لگائے۔
حدیث 15361–15361
باب: اس بیان میں کہ اشارے کنائے میں تہمت لگانے پر نہ لعان ہے اور نہ ہی حد لاگو ہوتی ہے۔
حدیث 15362–15366
باب: اس شخص کا بیان جو ایک مرتبہ اپنی بیوی کے حمل یا اس کے بچے کا اقرار کر لے تو اس کے بعد اسے اس (بچے) کی نفی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
حدیث 15367–15368
باب: اس بیان میں کہ حقِ ملکیت (لونڈی) اور نکاح کے ذریعے ہم بستری کرنے کی صورت میں بچہ بستر والے (مالک یا شوہر) ہی کا ہوگا۔
حدیث 15369–15376
باب: اس عورت کا بیان جو کسی شبہے کے تحت کسی (دوسرے) مرد کے بستر پر (اس سے ہم بستری کے نتیجے میں) بچہ جنے درآں حالیکہ وہ بچہ پہلے (شوہر) کا ہونا ممکن نہ ہو اور دوسرے کا ہونا ممکن ہو۔
حدیث 15377–15377
اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔