السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 15322
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، نا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " وَصَارَ مَا صُنِعَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةً، قَالَ سَهْلٌ: وَحَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا " وَمِنْهُمْ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُتْقِنْهُ إِتْقَانَ هَؤُلَاءِ، وَزَادَ فِيهِ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے پاس تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں نافذ بھی فرما دیا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس کیے گئے کام کو سنت ٹھہرا دیا گیا، سیدنا سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، بعد میں لعان کرنے والوں کے لیے یہی سنت مقرر کر دی گئی کہ ان کے درمیان تفریق ڈال دی جائے گی، پھر وہ کبھی جمع نہ ہوں گے۔ [صحیح۔ تقدم قبلہ]