السنن الكبرى للبيهقي
كتاب اللعان— لعان کا بیان
باب: سنة اللعان ونفي الولد وإلحاقه بالأم وغير ذلك باب: لعان کے طریقے، بچے کی نفی کرنے، اسے ماں کے ساتھ لاحق کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان۔
حدیث نمبر: 15327
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ⦗٦٦٠⦘ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ سَعِيدٌ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " قَدْ فَرَّقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.حافظ ثناء اللہ
عذرہ، سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ مصعب نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق نہیں کروائی۔ سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ بات سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ذکر کی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کروائی تھی۔“