حدیث نمبر: 15313
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمٍ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ أَتَقْتُلُونَهُ؟ سَلْ لِي يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا فَرَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى عُوَيْمِرٍ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ نَزَلَ الْقُرْآنُ خِلَافَ عَاصِمٍ فَسَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا الْقُرْآنُ فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا " ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا " فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عویمر رضی اللہ عنہ، عاصم رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: آپ کا کیا خیال ہے ایسے شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی کے پاس کسی دوسرے مرد کو پاتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے، کیا تم اس کے بدلے اس کو قتل کرو گے؟ اے عاصم! رسول اللہ ﷺ سے پوچھ کر بتاؤ۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے سوال کو ناپسند فرمایا، عاصم رضی اللہ عنہ عویمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے اور بتایا کہ نبی ﷺ نے سوال کو ناپسند کرتے ہوئے اس پر عیب لگایا ہے۔ عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں خود رسول اللہ ﷺ کے پاس جاتا ہوں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو قرآن عاصم (کے سوال) کے متعلق نازل ہو چکا تھا، عویمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔“ پھر ان دونوں نے آ کر لعان کیا۔ پھر عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں اس کو بیوی بنائے رکھوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، پھر اس نے نبی ﷺ کے حکم سے پہلے ہی اسے جدا کر دیا۔ یہ طریقہ دو لعان کرنے والوں کے متعلق گزر چکا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اس عورت کا انتظار کرو، اگر یہ سرخ رنگ، چھوٹے قد، گویا کہ خچیرا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے جھوٹ بولا ہے اور اگر یہ سرمیلی آنکھوں، بھاری سرینوں والا بچہ جنم دے تو میرا خیال ہے عویمر نے سچ بولا ہے۔“ تو اس نے عویمر کی تصدیق والے اوصاف پر ہی بچے کو جنم دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب اللعان / حدیث: 15313
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»