کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«استوصوا بالأنصار خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”انصار کے ساتھ بھلائی کرنے کی میری وصیت قبول کرو (یعنی ان کے ساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کرنا)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 959
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أنس. الصحيحة ٩١٦.
«استوصوا بالنساء خيرا فإن المرأة خلقت من ضلع وإن أعوج شيء في الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر والا حصہ ہوتا ہے۔ پس اگر تم اسے سیدھا کرنے جاؤ گے تو اسے توڑ دو گے، اور اگر اسے اسی حال میں چھوڑ دو گے تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی، لہٰذا عورتوں کے بارے میں بھلائی کی وصیت قبول کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 960
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق] عن أبي هريرة.
«استووا ولا تختلفوا فتختلف قلوبكم وليلني منكم أولو الأحلام والنهي ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(نماز کی صفوں میں) سیدھے کھڑے ہو اور آگے پیچھے نہ کھڑے ہو، ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، اور تم میں سے جو بالغ اور سمجھدار ہیں انہیں میرے قریب کھڑا ہونا چاہیے، پھر ان کو جو ان کے بعد ہیں، پھر ان کو جو ان کے بعد ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 961
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م ن] عن أبي مسعود. صحيح أبي داود ٦٧٨، د، ابن ماجه، هق، الطيالسي.
«أسرع قبائل العرب فناء قريش يوشك أن تمر المرأة بالنعل فتقول: هذه نعل قرشي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”عرب قبائل میں سب سے جلدی ہلاک (ختم) ہونے والا قبیلہ قریش ہوگا، قریب ہے کہ ایک عورت کسی جوتے کے پاس سے گزرے گی تو اسے دیکھ کر کہے گی: یہ کسی قریشی کا جوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 962
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن أبي هريرة. الصحيحة ٧٣٨.
«أسرعكن لحاقا بي أطولكن يدا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم (ازواج مطہرات) میں سے مجھ سے سب سے جلدی وہ آ کر ملے گی جس کے ہاتھ تم میں سب سے لمبے (یعنی جو سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کرنے والی) ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 963
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن] عن عائشة. مختصر مسلم ١٦٧٥، فقه السيرة ٦٦.
«أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جنازے کو جلدی لے کر جایا کرو، کیونکہ اگر وہ نیک ہو تو تم اسے ایک بھلائی کی طرف جلدی پہنچا رہے ہو، اور اگر وہ اس کے سوا (برا) ہو تو تم ایک برائی کو اپنی گردنوں سے اتار رہے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 964
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ٤] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ٤٧٠، أحكام الجنائز ٧١:هق.
"أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت
أوصى بنيه فقال: إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في البحر فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ففعلوا ذلك به فقال الله للأرض: أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال: ما حملك على ما صنعت؟ قال خشيتك يا رب فغفر له بذلك"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک شخص نے (گناہ کر کے) اپنی جان پر بہت زیادتی کی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا، پھر مجھے سمندر میں اڑا دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا: جو تو نے لیا ہے اسے واپس کر دے۔ تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا تھا جو تو نے کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ چنانچہ اللہ نے اسی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«أسرق الناس الذي يسرق صلاته: لا يتم ركوعها ولا سجودها، وأبخل الناس من بخل بالسلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے، یعنی نہ اس کا رکوع پورا کرتا ہے اور نہ اس کا سجدہ۔ اور لوگوں میں سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام کرنے میں بخل سے کام لے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 966
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طس] عن عبد الله بن مغفل. صحيح الترغيب ٥٢٦ وزاد معجمي الطبراني الكبير والصغير، الروض ٦٥٤.
«أسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال: لا إله إلا الله خالصا مخلصا من قلبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن میری شفاعت سے سب سے زیادہ خوش نصیب وہ شخص ہوگا جس نے سچے دل سے خلوص کے ساتھ کہا ہوگا کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 967
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن أبي هريرة.
«اسعوا فإن الله قد كتب عليكم السعي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(صفا اور مروہ کے درمیان) سعی کیا کرو، کیونکہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تم پر سعی کو فرض کیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 968
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن حبيبة بنت أبي تجراة٣. الإرواء ١٠٨٨، خز ٢٤٣/٢، سعد ٨/٢٤٧.
«أسفر بصلاة الصبح حتى يرى القوم مواقع نبلهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فجر کی نماز اجالے میں پڑھا کرو، یہاں تک کہ لوگ اپنے تیروں کے گرنے کی جگہوں کو (روشنی میں) دیکھ سکیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 969
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي] عن رافع بن خديج. الإرواء ٢٥٨.
«أسفروا بالفجر فإنه أعظم للأجر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فجر کی نماز خوب اجالا ہونے پر پڑھا کرو، کیونکہ اس میں بہت بڑا ثواب ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 970
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت ن حب] عن رافع. المشكاة ٦١٤، الإرواء ٢٥٨.
«أسلم الناس وآمن عمرو بن العاص»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(دیگر) لوگ تو (محض) مسلمان ہوئے ہیں، جبکہ عمرو بن عاص ایمان لائے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 971
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت] عن عقبة بن عامر. الصحيحة ١٥٥.
«أسلمت على ما أسلفت من خير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم زمانہ جاہلیت میں جو نیکیاں کر چکے ہو، انہی نیکیوں کی بدولت تم اسلام لائے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 972
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن حكيم بن حزام. الصحيحة ٢٤٨.
«أسلم ثم قاتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”پہلے اسلام لاؤ، پھر قتال (جہاد) کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 973
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن البراء. خ عن البراء.
«أسلم وإن كنت كارها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اسلام قبول کر لو، خواہ تمہیں (طبیعی طور پر) ناگوار ہی کیوں نہ گزر رہا ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 974
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ع الضياء] عن أنس. الصحيحة ١٤٥٤.
«أسلم سالمها الله وغفار غفر الله لها أما والله ما أنا قلته ولكن الله قاله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قبیلہ اسلم کو اللہ نے سلامت رکھا اور قبیلہ غفار کو اللہ نے بخش دیا، سنو! اللہ کی قسم، یہ میں نے خود نہیں کہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 975
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب ك] عن سلمة بن الأكوع [م] عن أبي هريرة. مسلم ٧/١٧٧، مختصر مسلم ١٧٣٢.
«أسلم وغفار وأشجع ومزينة وجهينة ومن كان من بني كعب موالي دون الناس والله ورسوله مولاهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قبیلہ اسلم، غفار، اشجع، مزینہ، جہینہ اور بنو کعب کے لوگ، باقی لوگوں کو چھوڑ کر میرے دوست اور حلیف ہیں، اور اللہ اور اس کا رسول ان کے حامی و ناصر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 976
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ك] عن أبي أيوب. الصحيحة ١٤٥٥.
«أسلم وغفار وشيء من مزينة وجهينة خير عند الله من أسد وتميم وهوازن وغطفان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قبیلہ اسلم، غفار، اور مزینہ و جہینہ کے کچھ لوگ اللہ کے نزدیک اسد، تمیم، ہوازن اور غطفان قبائل سے زیادہ بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 977
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.
«أسلم وغفار ومزينة خير من تميم وأسد وغطفان وعامر بن صعصعة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قبیلہ اسلم، غفار اور مزینہ، بنو تمیم، اسد، غطفان اور عامر بن صعصعہ سے بہتر ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 978
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي بكرة. صحيح مسلم ٧/١٨.
«اسم الله الأعظم الذي إذا دعي به أجاب في ثلاث سور من القرآن في البقرة وآل عمران وطه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ تعالیٰ کا وہ اسمِ اعظم کہ جس کے واسطے سے اگر دعا کی جائے تو وہ قبول فرماتا ہے، قرآن مجید کی تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ میں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 979
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ طب ك] عن أبي أمامة. الصحيحة ٧٤٦: الطحاوي.
«اسم الله الأعظم في هاتين الآيتين: {وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ} وفاتحة آل عمران {الم، اللَّهُ لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} »
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اللہ کا اسمِ اعظم ان دو آیتوں میں ہے: ﴿وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ﴾ ”اور تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔“ [سورة البقرة: 163] اور سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیات میں: ﴿الم، اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ ”الم، اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا، (سب کو) قائم رکھنے والا ہے۔“ [سورة آل عمران: 1-2]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 980
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ت هـ] عن أسماء بنت يزيد. المشكاة ٢٢٩١، صحيح أبي داود ١٣٤٣: الدارمي، الطحاوي.
«اسمحوا يسمح لكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تم (دوسروں کے ساتھ) درگزر (اور نرمی) سے کام لو، تو تمہارے ساتھ بھی درگزر سے کام لیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 981
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [عب] عن عطاء مرسلا. الصحيحة ١٤٥٦: ابن عساكر.
«اسمح يسمح لك»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”تو (دوسروں کے ساتھ) نرمی اور فیاضی سے پیش آ، تو تیرے ساتھ بھی فیاضی اور نرمی کی جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 982
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب هب] عن ابن عباس. الروض ٣٩٠، الصحيحة ١٤٥٦: ابن عساكر، الضياء.
«اسمع وأطع ولو لعبد حبشي مجدع الأطراف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اپنے امیر کی بات) سنو اور اطاعت کرو، خواہ وہ کوئی کٹے ہوئے اعضاء والا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 983
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن أبي ذر.
«اسمعوا وأطيعوا فإنما عليهم ما حملوا وعليكم ما حملتم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(حکمرانوں کی بات) سنو اور ان کی اطاعت کرو، کیونکہ ان پر اس بات کی ذمہ داری ہے جس کا انہیں مکلف بنایا گیا ہے، اور تم پر اس بات کی ذمہ داری ہے جس کے تم مکلف بنائے گئے ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 984
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ت] عن وائل. مختصر مسلم ١٢٢٧.
«اسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”(اپنے امیر کی بات) سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کوئی ایسا حبشی غلام ہی کیوں نہ حاکم بنا دیا جائے جس کا سر (سیاہ اور چھوٹا ہونے میں) کشمش کی طرح ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 985
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن أنس. الإرواء ٢٤٥٥.
«أسوأ الناس سرقة الذي يسرق من صلاته لا يتم ركوعها ولا سجودها ولا خشوعها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے بری چوری کرنے والا وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے، یعنی نہ اس کا رکوع پورا کرتا ہے، نہ اس کا سجدہ اور نہ ہی اس میں خشوع و خضوع اختیار کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 986
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ك] عن أبي قتادة [الطيالسي حم ع] عن أبي سعيد. الروض ٢/٦٩، المشكاة ٨٨٥، صحيح الترغيب ٥٢٥: الدارمي، طب، طس، حب، ك، هق - أبي هريرة.
«أشبه من رأيت بجبريل دحية الكلبي»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے، ان میں جبریل (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ مشابہ دحیہ کلبی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 987
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ابن سعد] عن ابن شهاب. الصحيحة ١١١١: حم، م –جابر.
«اشتد غضب الله على من زعم أنه ملك الأملاك لا ملك إلا الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”اس شخص پر اللہ کا غضب انتہائی شدید ہے جس نے یہ دعویٰ کیا کہ وہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے، حالانکہ اللہ کے سوا کوئی سچا بادشاہ نہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 988
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة [الحارث] عن ابن عباس.
«اشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال الذي اشترى العقار: خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الأرض ولم أبتع الذهب، وقال الذي له الأرض: إنما بعتك الأرض وما فيها فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه: ألكما ولد؟ قال أحدهما: لي غلام، وقال الآخر: لي جارية. قال: أنكحوا الغلام الجارية وأنفقوا على أنفسكما منه وتصدقوا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے کوئی زمین (جائیداد) خریدی۔ زمین خریدنے والے کو اپنی اس زمین میں سے سونے سے بھرا ہوا ایک گھڑا ملا۔ زمین خریدنے والے نے (بیچنے والے سے) کہا: اپنا سونا مجھ سے لے لو، میں نے تو تم سے صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا۔ جبکہ زمین کے (سابقہ) مالک نے کہا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب بیچ دیا تھا۔ پھر وہ دونوں اپنا فیصلہ کروانے کے لیے ایک تیسرے شخص کے پاس گئے۔ جس شخص کے پاس وہ فیصلہ کروانے گئے تھے اس نے پوچھا: کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا ایک بیٹا ہے۔ اور دوسرے نے کہا: میری ایک بیٹی ہے۔ اس (ثالث) نے فیصلہ دیا: اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح کر دو، اور اس (سونے) میں سے تم دونوں بھی اپنے آپ پر خرچ کرو اور (باقی) صدقہ کر دو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠٥٨.
«اشتكت النار إلى ربها فقالت: يا رب أكل بعضي بعضا فأذن لها بنفسين نفس في الشتاء ونفس في الصيف فهو أشد ما تجدون من الحر وأشد ما تجدون من الزمهرير»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور عرض کیا: اے میرے رب! میرے ایک حصے نے دوسرے حصے کو کھا لیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے دو سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ پس تم جو شدید ترین گرمی محسوس کرتے ہو اور جو شدید ترین سردی محسوس کرتے ہو، یہ اسی کی وجہ سے ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 990
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك ق هـ] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٥٧: حم.
«اشتكت النار إلى ربها وقالت: يا رب أكل بعضي بعضا فجعل لها نفسين نفسا في الشتاء ونفسا في الصيف فأما نفسها في الشتاء فهو زمهرير وأما نفسها في الصيف فسموم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جہنم کی آگ نے اپنے رب سے شکایت کی اور عرض کیا: اے میرے رب! میرے بعض حصے نے بعض کو کھا لیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے دو سانسیں مقرر کر دیں، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں۔ پس اس کا جو سانس سردیوں میں ہوتا ہے وہ انتہائی سخت سردی ہے، اور اس کا جو سانس گرمیوں میں ہوتا ہے وہ انتہائی شدید جھلسا دینے والی لو (گرمی) ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. الصحيحة ١٤٥٧: ابن ماجه.
"أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الرجل على حسب دينه فإن كان في دينه صلبا اشتد بلاؤه، وإن كان في دينه رقة ابتلي على قدر دينه فما يبرح البلاء بالعبد حتى يتركه يمشي
على الأرض وما عليه خطيئة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائشوں کا سامنا انبیاء کو کرنا پڑتا ہے، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کو جو ان کے قریب تر (نیک) ہوتے ہیں۔ انسان کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس اگر وہ اپنے دین میں سخت (مضبوط) ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت کر دی جاتی ہے، اور اگر اس کے دین میں نرمی (کمزوری) ہو تو اسے اس کے دین کے درجے کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اور بندے پر مصیبتوں اور آزمائشوں کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اسے اس حال میں چھوڑتی ہیں کہ وہ زمین پر چل رہا ہوتا ہے اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 992
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ ن١ هـ] عن سعد. المشكاة ١٥٦٢، الصحيحة ١٤٣: الدارمي، الطحاوي، حب، ك، الضياء.
«أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الناس على قدر دينهم فمن ثخن دينه اشتد بلاؤه ومن ضعف دينه ضعف بلاؤه وإن الرجل ليصيبه البلاء حتى يمشي في الناس ما عليه خطيئة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر ان کی جو ان سے قریب تر ہوں، پھر ان کی جو ان سے قریب تر ہوں۔ لوگوں کو ان کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس جس کا دین پختہ ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور جس کا دین کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی ہلکی ہوتی ہے۔ اور بے شک آدمی کو مصائب پہنچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 993
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أبي سعيد٢. الصحيحة ١٤٤: حم، ت، الدارمي، ابن ماجه، الطحاوي.
«أشد الناس بلاء الأنبياء الصالحون ثم الأمثل فالأمثل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء اور نیک لوگوں کی ہوتی ہے، پھر درجہ بدرجہ ان لوگوں کی جو (مرتبے میں) ان کے بعد آتے ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 994
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أخت حذيفة.
«أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الصالحون لقد كان أحدهم يبتلى بالفقر حتى ما يجد إلا العباءة يجوبها فيلبسها ويبتلى بالقمل حتى يقتله ولأحدهم كان أشد فرحا بالبلاء من أحدكم بالعطاء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر نیک لوگوں کی۔ یقیناً ان میں سے کسی ایک کو فقر و فاقہ کے ذریعے اس قدر آزمایا جاتا تھا کہ وہ ایک اونی عبا (چادر) کے سوا کچھ نہ پاتا تھا، چنانچہ وہ اسے پھاڑ کر پہن لیتا تھا، اور انہیں جوؤں کے ذریعے آزمایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے ہلاک کر دیتی تھیں، اور ان میں سے ہر ایک آزمائش پر اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا تھا جتنا تم میں سے کوئی مال و دولت ملنے پر خوش ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 995
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ ع ك] عن أبي سعيد. الصحيحة ١٤٤: ابن سعد.
«أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر ان کی جو (فضیلت میں) ان کے بعد ہیں، پھر ان کی جو ان کے بعد ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 996
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم طب] عن فاطمة بنت اليمان. الصحيحة ١٤٥: المحاملي.
«أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة: الذين يضاهون بخلق الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی مشابہت اختیار کرتے ہیں (یعنی جانداروں کی تصویریں بناتے ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 997
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ن] عن عائشة. غاية المرام ١١٩.
«أشد الناس عذابا للناس في الدنيا أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”دنیا میں لوگوں کو سب سے زیادہ سخت عذاب (تکلیف) دینے والا، قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے زیادہ سخت عذاب پانے والا ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 998
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم هب] عن خالد بن الوليد [ك] عن عياض بن غنم وهشام بن حكيم. الصحيحة ١٤٤٢: الحميدي.