حدیث نمبر: 989
«اشترى رجل من رجل عقارا له فوجد الرجل الذي اشترى العقار في عقاره جرة فيها ذهب فقال الذي اشترى العقار: خذ ذهبك مني إنما اشتريت منك الأرض ولم أبتع الذهب، وقال الذي له الأرض: إنما بعتك الأرض وما فيها فتحاكما إلى رجل فقال الذي تحاكما إليه: ألكما ولد؟ قال أحدهما: لي غلام، وقال الآخر: لي جارية. قال: أنكحوا الغلام الجارية وأنفقوا على أنفسكما منه وتصدقوا»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک شخص نے کسی دوسرے شخص سے کوئی زمین (جائیداد) خریدی۔ زمین خریدنے والے کو اپنی اس زمین میں سے سونے سے بھرا ہوا ایک گھڑا ملا۔ زمین خریدنے والے نے (بیچنے والے سے) کہا: اپنا سونا مجھ سے لے لو، میں نے تو تم سے صرف زمین خریدی تھی سونا نہیں خریدا۔ جبکہ زمین کے (سابقہ) مالک نے کہا: میں نے تمہیں زمین اور جو کچھ اس میں تھا سب بیچ دیا تھا۔ پھر وہ دونوں اپنا فیصلہ کروانے کے لیے ایک تیسرے شخص کے پاس گئے۔ جس شخص کے پاس وہ فیصلہ کروانے گئے تھے اس نے پوچھا: کیا تمہاری کوئی اولاد ہے؟ ان میں سے ایک نے کہا: میرا ایک بیٹا ہے۔ اور دوسرے نے کہا: میری ایک بیٹی ہے۔ اس (ثالث) نے فیصلہ دیا: اس لڑکے اور لڑکی کا آپس میں نکاح کر دو، اور اس (سونے) میں سے تم دونوں بھی اپنے آپ پر خرچ کرو اور (باقی) صدقہ کر دو۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 989
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق هـ] عن أبي هريرة. مختصر مسلم ١٠٥٨.