حدیث نمبر: 993
«أشد الناس بلاء الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل يبتلى الناس على قدر دينهم فمن ثخن دينه اشتد بلاؤه ومن ضعف دينه ضعف بلاؤه وإن الرجل ليصيبه البلاء حتى يمشي في الناس ما عليه خطيئة»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش انبیاء کی ہوتی ہے، پھر ان کی جو ان سے قریب تر ہوں، پھر ان کی جو ان سے قریب تر ہوں۔ لوگوں کو ان کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے، پس جس کا دین پختہ ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور جس کا دین کمزور ہوتا ہے اس کی آزمائش بھی ہلکی ہوتی ہے۔ اور بے شک آدمی کو مصائب پہنچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوگوں کے درمیان اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ باقی نہیں رہتا۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 993
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حب] عن أبي سعيد٢. الصحيحة ١٤٤: حم، ت، الدارمي، ابن ماجه، الطحاوي.