حدیث نمبر: 965
"أسرف رجل على نفسه فلما حضره الموت
أوصى بنيه فقال: إذا أنا مت فأحرقوني ثم اسحقوني ثم اذروني في البحر فوالله لئن قدر علي ربي ليعذبني عذابا ما عذبه أحدا ففعلوا ذلك به فقال الله للأرض: أدي ما أخذت فإذا هو قائم فقال: ما حملك على ما صنعت؟ قال خشيتك يا رب فغفر له بذلك"
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”ایک شخص نے (گناہ کر کے) اپنی جان پر بہت زیادتی کی، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا، پھر مجھے سمندر میں اڑا دینا، کیونکہ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھ پر قابو پا لیا تو وہ مجھے ایسا عذاب دے گا جو اس نے کسی کو نہ دیا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا: جو تو نے لیا ہے اسے واپس کر دے۔ تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا: تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا تھا جو تو نے کیا؟ اس نے عرض کیا: اے میرے رب! تیرے خوف نے۔ چنانچہ اللہ نے اسی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق] عن أبي هريرة.