حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ: «نَعَمْ، يَسْأَلُ الرَّجُلُ فِي الْفِتَنِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ أَمْسَكَ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم آپس میں اپنے مالوں کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، آدمی فتنوں میں اپنی قوم کے درمیان صلح کے لیے سوال کر سکتا ہے، پھر جب اس حد کو پہنچ جائے یا قریب ہو جائے تو رک جائے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا، فَقَالَ: «لِيَسْأَلْ أَحَدُكُمْ فِي الْحَاجَةِ وَالْفِتَنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَ قَوْمِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرَبَ اسْتَعَفَّ» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم ایسی قوم ہیں جو آپس میں اپنے مالوں کے بارے میں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ضرورت اور فتنوں میں اپنی قوم کے درمیان صلح کرانے کے لیے سوال کر سکتا ہے، پھر جب اس حد کو پہنچ جائے یا قریب ہو جائے تو سوال کرنے سے رک جائے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا جِئْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ بِعَدَدِ أَصَابِعِي هَذِهِ أَنْ لَا أَتَّبِعَكَ وَلَا أَتَّبِعَ دِينَكَ، وَإِنِّي أَتَيْتُ امْرَءًا لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلِّمْنِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِاللهِ بِمَ بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟، قَالَ: «اجْلِسْ» ، ثُمَّ قَالَ: «بِالْإِسْلَامِ» ، فَقُلْتُ: وَمَا آيَةُ الْإِسْلَامِ؟، قَالَ: «تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتُفَارِقُ الشِّرْكَ، وَإِنَّ كُلَّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ، أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللهُ مِنْ مُشْرِكٍ أَشْرَكَ مِنْ بَعْدِ إِسْلَامِهِ عَمَلًا، وَإِنَّ رَبِّي دَاعِيَّ وَسَائِلِي هَلْ بَلَغَتُ عِبَادَهُ؟، فَلْيُبَلِّغْ شَاهِدُكُمْ غَائِبَكُمْ، وَإِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ مُفْدَمٌ عَلَى أَفْوَاهِكُمْ بِالْفِدَامِ، فَأَوَّلُ مَا يُسْأَلُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ وَكَفُّهُ» ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَهَذَا دِينُنَا؟، قَالَ: «نَعَمْ، فَإِنَّمَا تُحْشَرُونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ وَعَلَى أَقْدَامِكُمْ وَرُكْبَانًا» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … اور میں ایک ایسے شخص کے پاس آیا ہوں جو کچھ نہیں سمجھتا سوائے اس کے جو اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ نے مجھے سکھایا ہو، اور میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ آپ کے رب نے آپ کو ہماری طرف کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیٹھ جاؤ۔“ پھر فرمایا: ”اسلام کے ساتھ۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کی نشانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرو، اور زکوٰۃ ادا کرو، اور شرک سے الگ ہو جاؤ، اور ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے، دونوں بھائی اور ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اللہ کسی مشرک کا عمل قبول نہیں کرتا جو اپنے اسلام کے بعد شرک کر بیٹھے، اور بے شک میرا رب مجھے بلائے گا اور مجھ سے پوچھے گا کہ کیا میں نے اس کے بندوں کو پیغام پہنچا دیا؟ تو تم میں سے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے، اور تم قیامت کے دن اس حال میں بلائے جاؤ گے کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، پس تم میں سے ہر ایک سے سب سے پہلے اس کی ران اور اس کی ہتھیلی کے بارے میں پوچھا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا یہی ہمارا دین ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، بے شک تم اپنے چہروں کے بل، اپنے قدموں کے بل اور سواریوں پر اٹھائے جاؤ گے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا … پھر راوی نے معمر کی روایت جیسی مکمل حدیث بیان کی (جیسا کہ اوپر گزر چکی)۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَالنَّضْرُ بْنِ شُمَيْلٍ، وَرَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدٍ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُفَدَّمَةً أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ» ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَا يُبَيِّنُ مِنْ أَحَدِكُمْ لَفَخِذُهُ وَكَفُّهُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تمہیں اس حال میں بلایا جائے گا کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی۔“ پھر فرمایا: ”بے شک تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے اس کی ران اور اس کی ہتھیلی ظاہر ہو گی۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَنْتُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم پیدل اور سوار حالت میں اٹھائے جاؤ گے، اور تم اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْإِيَادِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ قَيْسٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ الْهُذَلِيِّ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ خِرْ لِي، فَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الشَّامِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ رِجَالًا وَرُكْبَانًا وَتُجَرُّونَ عَلَى وُجُوهِكُمْ مُفْدَمَةٌ أَفْوَاهُكُمْ بِالْفِدَامِ، وَإِنَّ أَوَّلَ مَا يَبْدَأُ مِنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے لیے بہتر جگہ کا انتخاب فرمائیں، تو آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے شام کی طرف اشارہ کیا، پھر فرمایا: ”اے لوگو! تم پیدل اور سوار حالت میں اٹھائے جاؤ گے اور اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جاؤ گے، اس حال میں کہ تمہارے منہ پر مہر لگی ہو گی، اور تم میں سے ہر ایک کے بارے میں سب سے پہلے اس کی ران سے سوال شروع ہو گا۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنْبَأَ خَالِدٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَهُ مَوْلَاهُ فَضْلَ مَالِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ حُوِّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”جس سے اس کے غلام نے اس کے فاضل مال میں سے مانگا اور اس نے اسے نہ دیا، تو قیامت کے دن اسے ایک گنجے سانپ کی شکل میں بدل دیا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْأَلُ أَحَدٌ مَوْلًى مِنْ فَضْلٍ هُوَ عِنْدَهُ، فَيَمْنَعَهُ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلُهُ الَّذِي مَعَهُ شُجَاعًا أَقْرَعَ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی سے اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے روک لے، تو قیامت کے دن اس کا وہی فاضل مال جو اس کے پاس تھا ایک گنجے سانپ کی صورت میں اس کے پاس آئے گا۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَأْتِي رَجُلٌ مَوْلَاهُ فَيَسْأَلَهُ فَضْلًا عِنْدَهُ، فَيَمْنَعَهُ إِلَّا جَعَلَ اللهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ فَضْلَهُ الَّذِي يَمْنَعُ» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص کسی کے پاس آ کر اس کے فاضل مال میں سے مانگے اور وہ اسے روک لے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اس روکے ہوئے فاضل مال کو ایک گنجے سانپ کی صورت میں بنا دے گا۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٌ بِنْتُ لَبُونٍ، فَمَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ كَتَمَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَائِمِ رَبِّكَ، لَا يَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ہر چالیس چرنے والے اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی (بنت لبون) زکوٰۃ ہے، جو شخص اسے ثواب کی نیت سے دے تو اس کے لیے اس کا اجر ہے، اور جو اسے چھپائے تو ہم اسے اور اس کے آدھے اونٹ لے لیں گے، یہ تیرے رب کے سخت احکام میں سے ایک حکم ہے، اور یہ زکوٰۃ کا مال نہ محمد کے لیے حلال ہے اور نہ آلِ محمد کے لیے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فِي كُلِّ سَائِمَةٍ مِنَ الْإِبِلِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَلَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حَالِهَا، فَمَنْ أَعْطَاهَا مُتَّجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنِّي آخِذُهَا وَشَطْرَ مَالِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَيْسَ لِآلِ مُحَمَّدٍ فِيهَا شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر چرنے والے اونٹوں کے ریوڑ میں ہر چالیس پر ایک بنت لبون زکوٰۃ ہے، اور اونٹوں کو ان کی حالت سے الگ الگ نہیں کیا جائے گا، پس جو اسے ثواب کی نیت سے دے تو اس کے لیے اس کا اجر ہے، اور جو اسے روکے تو میں اسے اور اس کے آدھے مال کو لے لوں گا، یہ ہمارے رب کے سخت احکام میں سے ایک حکم ہے، اس میں آلِ محمد کے لیے کچھ نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، مَنْ أَتَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے سنا: ”ہر چرنے والے اونٹوں کے ریوڑ میں ہر چالیس پر ایک بنت لبون زکوٰۃ ہے، جو اسے ثواب کی نیت سے دے تو اس کے لیے اس کا اجر ہے، اور جو اسے روکے تو ہم اسے اور اس کے آدھے اونٹ لے لیں گے، یہ ہمارے رب کے سخت احکام میں سے ایک حکم ہے، اس میں سے آلِ محمد کے لیے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نَأْتِي مِنْ عَوْرَاتِنَا مِمَّا نَذَرُ؟، فَقَالَ: «احْفَظْ، عَلَيْكَ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجَتِكَ وَمِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِذَا كَانَ بَعْضًا فِي بَعْضٍ؟، قَالَ: «إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَى عَوْرَتَكَ أَحَدٌ فَافْعَلْ» ، فَقَالُوا: إِنْ كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا وَحْدَهُ؟، قَالَ: «وَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْهُ» ، وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَرْجِهِ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری شرمگاہیں، ہم ان میں سے کیا ظاہر کریں اور کیا چھپائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور جب کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کو کوئی نہ دیکھے تو ایسا کرو۔“ لوگوں نے عرض کیا: اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“ اور آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ پر رکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، أَنْبَأَ سُفْيَانُ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟، قَالَ: «احْفَظْ عَلَيْكَ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» ، قُلْتُ: فَإِذَا كَانَ بَعْضًا فِي بَعْضٍ؟، قَالَ: «فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَى عَوْرَتَكَ أَحَدٌ فَافْعَلْ» ، قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِذَا كَانَ أَحَدُنَا جَالِسًا وَحْدَهُ؟، قَالَ: «اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری شرمگاہیں، ہم ان میں سے کیا ظاہر کریں اور کیا چھپائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: اور جب کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کو کوئی نہ دیکھے تو ایسا کرو۔“ میں نے عرض کیا: اگر ہم میں سے کوئی تنہا بیٹھا ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟، قَالَ: «اسْتُرْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» . زَادَ الْحَجَبِيُّ فِي حَدِيثِهِ: قُلْتُ: الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟، قَالَ: «إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَاهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا» ، قُلْتُ: فَإِذَا كَانَ أَحَدُنَا خَالِيًا؟، قَالَ: «فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری شرمگاہیں، ہم ان میں سے کیا ظاہر کریں اور کیا چھپائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ چھپاؤ سوائے اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے۔“
حجبی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: میں نے عرض کیا: جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ کر سکو کہ کوئی اسے نہ دیکھے تو کوئی اسے ہرگز نہ دیکھے۔“ میں نے عرض کیا: اور اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
حجبی نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا: میں نے عرض کیا: جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ کر سکو کہ کوئی اسے نہ دیکھے تو کوئی اسے ہرگز نہ دیکھے۔“ میں نے عرض کیا: اور اگر ہم میں سے کوئی تنہا ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا نَأْتِي مِنْ عَوْرَاتِنَا وَمَا نَذَرُ؟، قَالَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجِكَ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» ، قُلْتُ: فَإِذَا كُنَّا بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ؟، قَالَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ مَا اسْتَطَعْتَ» ، قَالَ: فَإِذَا كُنَّا فِي خَلَاءٍ؟، قَالَ: «اللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اپنی شرمگاہوں میں سے کیا ظاہر کریں اور کیا چھپائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی اور اپنی لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: اور جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک ہو سکے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۔“ میں نے عرض کیا: اور جب ہم تنہائی میں ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ عَوْرَاتُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟، قَالَ: «احْفَظْ عَوْرَتَكَ إِلَّا مِنْ زَوْجِكَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ» ، قُلْتُ: إِذَا كَانَ الْقَوْمُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ؟، قَالَ: «فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ لَا يَرَيَنَّهَا أَحَدٌ فَلَا يَرَيَنَّهَا» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ فَأَحَدُنَا إِذَا خَلَا؟، قَالَ: «فَاللهُ أَحَقُّ أَنْ يُسْتَحْيَى مِنْهُ» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری شرمگاہیں، ہم ان میں سے کیا ظاہر کریں اور کیا چھپائیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی یا اپنی لونڈی کے۔“ میں نے عرض کیا: جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اکٹھے ہوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم یہ کر سکو کہ کوئی اسے نہ دیکھے تو کوئی اسے ہرگز نہ دیکھے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اور ہم میں سے کوئی جب تنہا ہو تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے حیا کی جائے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَأَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تُحْبَسُ جِيرَتِي؟، فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُنَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّيْءِ وَتَسْتَحِلُّ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُ؟» ، فَجَعَلْتُ أَعْرُضُ بَيْنَهُمَا بِكَلَامٍ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا فَيَدْعُو عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَهِمَهَا، فقَالَ: «قَدْ قَالُوهَا» ، أَوْ قَالَ: «قَالَهَا فِيهِمْ وَاللهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ، وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ، فُكُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: … نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے، پھر کہا گیا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی چیز سے منع کرتے ہیں پھر اسے اپنے لیے حلال کر لیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے ہو؟“ تو میں نے معاملے کو ٹالنے کے لیے ان دونوں کے درمیان بات کرنی شروع کر دی، اس خوف سے کہ کہیں آپ ﷺ یہ بات سن نہ لیں اور میری قوم کے خلاف ایسی بددعا نہ فرما دیں جس کے بعد وہ کبھی فلاح نہ پا سکیں، لیکن نبی کریم ﷺ برابر رہے یہاں تک کہ اسے سمجھ گئے، تو فرمایا: ”انہوں نے واقعی یہ بات کہی ہے“، یا فرمایا: ”اس نے ان کے بارے میں یہ بات کہی ہے، اللہ کی قسم! اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو یہ میرے ذمے ہوتا، ان کے ذمے نہ ہوتا، اسے اس کے پڑوسیوں کی طرف سے آزاد کر دو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانٍ الرَّقِّيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ فَكَلَّمَ فِيهِ فَخَلَّى سَبِيلَهُ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کو کسی الزام میں قید کیا، پھر اس کے بارے میں سفارش کی گئی تو آپ ﷺ نے اسے چھوڑ دیا۔
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟، قَالَ: «حَرْثُكَ فَائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ، غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحَ، وَلَا تَهْجُرَ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ»
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ہماری بیویاں، ہم ان سے کیا کریں اور کیا چھوڑیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہاری کھیتی ہیں، اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ، مگر یہ کہ چہرے پر نہ مارو، اور برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں الگ رہو، اور جب خود کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو انہیں بھی پہناؤ، اور بھلا کیسے کرو گے جبکہ تم ایک دوسرے کے قریب ہو چکے ہو۔“
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ " نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا وَمَا نَذَرُ؟، قَالَ: «حَرْثُكَ، ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ، غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحَ، وَلَا تَهْجُرَ إِلَّا فِي الْبَيْتِ، وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ، وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ، كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ؟» .
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہماری بیویاں، ہم ان سے کیا کریں اور کیا چھوڑیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ تمہاری کھیتی ہیں، اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ، مگر یہ کہ چہرے پر نہ مارو، اور برا بھلا نہ کہو، اور صرف گھر ہی میں الگ رہو، اور جب خود کھاؤ تو انہیں بھی کھلاؤ، اور جب خود پہنو تو انہیں بھی پہناؤ، اور بھلا کیسے کرو گے جبکہ تم ایک دوسرے کے قریب ہو چکے ہو؟“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، ثنا أَبِي، ثنا النَّصْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ كَرِيمَةَ الْبَصْرِيُّ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ وَاقِدٍ الْبَاهِلِيُّ، الْوَحِيمَةُ، ثنا أَبُو حَبِيبٍ الْقَنَوِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا تَرَى أَعْيُنُهُمُ النَّارَ: عَيْنٌ حَرَسَتْ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَعَيْنٌ بَكَتْ مِنْ خَشْيَةِ اللهِ، وَعَيْنٌ غَضَّتْ عَنْ مَحَارِمِ اللهِ "
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تین آنکھیں ایسی ہیں جنہیں جہنم کی آگ نہیں دیکھے گی: وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں پہرہ دیتی رہی، وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی، اور وہ آنکھ جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے جھکی رہی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنِي بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَوْدَاءُ وَلُودٌ خَيْرٌ مِنْ حَسْنَاءَ لَا تَلِدُ، إِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ حَتَّى بِالسِّقْطِ يَظَلُّ مُحْبَنْطِئًا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ: يَا رَبُّ وَأَبَوَايَ؟، فَيُقَالُ لَهُ: ادْخُلِ الْجَنَّةَ أَنْتَ وَأَبَوَاكَ "
ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک کالی لیکن زیادہ بچے جننے والی عورت اس خوبصورت عورت سے بہتر ہے جو بانجھ ہو، بے شک میں تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا، یہاں تک کہ ساقط شدہ بچہ بھی جنت کے دروازے پر ناراض ہو کر بیٹھا رہے گا، اسے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تو وہ کہے گا: اے میرے رب! اور میرے والدین؟ تو اسے کہا جائے گا: جنت میں داخل ہو جاؤ، تم اور تمہارے والدین۔“
…