المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 17014–17078) باب: (احادیث 17014 تا 17078)
حدیث نمبر: 17033
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْإِبِلِ سَائِمَةٌ بِنْتُ لَبُونٍ، فَمَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ كَتَمَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَائِمِ رَبِّكَ، لَا يَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ»ترجمہ
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: ”ہر چالیس چرنے والے اونٹوں میں ایک دو سالہ اونٹنی (بنت لبون) زکوٰۃ ہے، جو شخص اسے ثواب کی نیت سے دے تو اس کے لیے اس کا اجر ہے، اور جو اسے چھپائے تو ہم اسے اور اس کے آدھے اونٹ لے لیں گے، یہ تیرے رب کے سخت احکام میں سے ایک حکم ہے، اور یہ زکوٰۃ کا مال نہ محمد کے لیے حلال ہے اور نہ آلِ محمد کے لیے۔“