المعجم الكبير للطبراني
باب الميم— حرف میم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 17014–17078) باب: (احادیث 17014 تا 17078)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تُحْبَسُ جِيرَتِي؟، فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أُنَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنِ الشَّيْءِ وَتَسْتَحِلُّ بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُ؟» ، فَجَعَلْتُ أَعْرُضُ بَيْنَهُمَا بِكَلَامٍ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا فَيَدْعُو عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا، فَلَمْ يَزَلِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَهِمَهَا، فقَالَ: «قَدْ قَالُوهَا» ، أَوْ قَالَ: «قَالَهَا فِيهِمْ وَاللهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ، وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ، فُكُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ» .سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے میری قوم کے کچھ لوگوں کو ایک الزام میں پکڑ لیا، تو میری قوم کا ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، اس نے کہا: اے محمد! میرے پڑوسیوں کو کس بنا پر روک رکھا ہے؟ نبی کریم ﷺ خاموش ہو گئے، پھر اس نے کہا: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کسی چیز سے منع کرتے ہیں پھر اسے اپنے لیے حلال کر لیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم کیا کہہ رہے ہو؟“ تو میں نے معاملے کو ٹالنے کے لیے ان دونوں کے درمیان بات کرنی شروع کر دی، اس خوف سے کہ کہیں آپ ﷺ یہ بات سن نہ لیں اور میری قوم کے خلاف ایسی بددعا نہ فرما دیں جس کے بعد وہ کبھی فلاح نہ پا سکیں، لیکن نبی کریم ﷺ برابر رہے یہاں تک کہ اسے سمجھ گئے، تو فرمایا: ”انہوں نے واقعی یہ بات کہی ہے“، یا فرمایا: ”اس نے ان کے بارے میں یہ بات کہی ہے، اللہ کی قسم! اگر میں نے ایسا کیا ہوتا تو یہ میرے ذمے ہوتا، ان کے ذمے نہ ہوتا، اس کی خاطر اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔“