کتب حدیث ›
المعجم الكبير للطبراني › ابواب
› باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ بَعِيدَةً مَنَازِلُهُمْ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَنَزَلَتْ: {وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ} [يس: ١٢] فَثَبَتُوا فِي مَنَازِلِهِمْ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”انصار کے گھر مسجد سے دور تھے، تو انہوں نے مسجد کے قریب منتقل ہونے کا ارادہ کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ہم ان کے آگے بھیجے ہوئے اعمال اور ان کے نقوشِ قدم لکھ رہے ہیں“ [سورۃ یٰسین: 12]، تو وہ اپنے گھروں میں ہی ٹھہرے رہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْنُتُ فِي الْفَجْرِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر میں قنوت کرتے ہوئے بنو سلیم کے ایک قبیلے کے خلاف بددعا کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» ، ثُمَّ قَرَأَ: {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} [الأنبياء: ١٠٤] فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ وَيُؤْخَذُ بِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ: الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ": {كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ , وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} [المائدة: ١١٧] {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨]
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جاؤ گے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ”جس طرح ہم نے پہلی تخلیق شروع کی تھی اسی طرح اسے دوبارہ لوٹائیں گے، یہ ہم پر لازم وعدہ ہے، بے شک ہم ایسا ضرور کریں گے“ [سورۃ الانبیاء: 104]۔ سب سے پہلے کپڑا پہنائے جانے والے سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور میرے کچھ ساتھیوں کو دائیں بائیں سے پکڑ کر لے جایا جائے گا، تو میں کہوں گا: یہ میرے ساتھی ہیں، تو کہا جائے گا: آپ کے ان سے جدا ہونے کے بعد سے یہ لوگ برابر اپنی ایڑیوں کے بل مرتد ہوتے رہے۔ تو میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے کہا تھا: ”میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے“ [سورۃ المائدہ: 117]، ”اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے“ [سورۃ المائدہ: 118]۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «تَزَوَّجْ فَإِنَّ خَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَانَ أَكْثَرَهَا نِسَاءً»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”شادی کر لو، کیونکہ اس امت کا بہترین شخص وہی تھا جس کی بیویاں سب سے زیادہ تھیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا} [النساء: ٩٣] قَالَ: «لَيْسَ لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ تَوْبَةٌ مَا نَسَخَتْهَا آيَةٌ مُنْذُ أُنْزِلَتْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ”اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے“ [سورۃ النساء: 93] کے بارے میں فرماتے ہیں: ”مومن کے قاتل کے لیے کوئی توبہ نہیں، جب سے یہ آیت نازل ہوئی ہے کسی آیت نے اسے منسوخ نہیں کیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَكَّامٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: اخْتَلَفَ فِيهَا أَهْلُ الْكُوفَةِ، فَدَخَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: «قَدْ أُنْزِلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ، وَمَا نَسَخَهَا شَيْءٌ»
ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اہل کوفہ نے اس آیت کے بارے میں اختلاف کیا، تو میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے فرمایا: ”یہ آخر میں نازل ہونے والی آیات میں سے ہے، اور اسے کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ؟» فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ؟» , فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَقَدْ مَاتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ حَيْثُ تَكَلَّمْتُ؟» قَالَ: ظَنَنْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّهُ أُنْزِلَ فِي قَوْمِي شَيْءٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي آتِيَهُمْ بِهِ. قَالَ: «لَا , إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”کیا تم میں ہذیل کا کوئی شخص ہے؟“ کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: ”کیا تم میں ہذیل کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: میں ہوں، اور ان میں سے ایک شخص فوت ہو چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں نے پہلے پوچھا تھا تو تمہیں بولنے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے خیال ہوا کہ میری قوم کے بارے میں کچھ نازل ہوا ہے، تو میں نے یہ ناپسند کیا کہ میں ہی یہ خبر ان تک پہنچانے والا بنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمہارا ساتھی اپنے قرض کی وجہ سے روکا ہوا ہے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلَكْتُ قَالَ: «وَمَا أَهْلَكَكَ؟» قَالَ: حُوَّلْتُ رَحْلِيَ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ: {نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَائْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ} ، يَقُولُ: أَقْبِلْ وَأَدْبِرْ، وَاتَّقِ الدَّمَ، وَالْحُيَّضَ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: یا رسول اللہ! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کس چیز نے ہلاک کیا؟“ انہوں نے کہا: میں نے اپنی سواری کا رخ بدل لیا (یعنی اپنی بیوی کے پاس مختلف انداز سے گیا)۔ آپ ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ“، یعنی آگے سے آؤ یا پیچھے سے، اور خون سے بچو، اور حالتِ حیض میں تعلق قائم کرنے سے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَمَّا افْتَتَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ رَنَّ إِبْلِيسُ رَنَّةً اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ جُنُودُهُ، فَقَالَ: ايْئَسُوا أَنْ نُرِيدَ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى الشِّرْكِ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا، وَلَكِنِ افْتُنُوهُمْ فِي دِينِهِمْ، وَأَفْشُوا فِيهِمُ النَّوْحَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جب نبی کریم ﷺ نے مکہ فتح کیا تو ابلیس نے ایک چیخ ماری، اس کے لشکر اس کے پاس جمع ہو گئے، تو اس نے کہا: اب اس دن کے بعد امتِ محمد کو شرک پر لانے کی امید چھوڑ دو، لیکن انہیں ان کے دین میں فتنے میں ڈالو، اور ان میں نوحہ (میت پر رونے پیٹنے) کو عام کرو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «احْتَجَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے حالتِ روزہ اور احرام میں پچھنے لگوائے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، عَنْ يَعْقُوبَ الْقُمِّيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدَعُ صَوْمَ أَيَّامِ الْبِيضِ فِي سَفَرٍ، وَلَا حَضَرٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایامِ بیض کے روزے نہ سفر میں چھوڑتے اور نہ حضر میں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاهِبِ الْحَارِثِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا دَنَا مِنْ مَنْزِلِهِ سَمِعَهُ يَتَكَلَّمُ فِي الدَّاخِلِ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ دَخَلَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرَ أَحَدًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَمِعْتُكُ تُكَلِّمُ غَيْرَكَ» قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , لَقَدْ دَخَلْتُ الدَّاخِلَ اغْتِمَامًا بِكَلَامِ النَّاسِ مِمَّا بِي مِنَ الْحُمَّى، فَدَخَلَ عَلَيَّ دَاخِلٌ مَا رَأَيْتُ رَجُلًا قَطُّ بَعْدَكَ أَكْرَمَ مَجْلِسًا، وَلَا أَحْسَنَ حَدِيثًا مِنْهُ قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَإِنَّ مِنْكُمْ لَرِجَالًا لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ يُقْسِمُ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب وہ اپنے گھر کے قریب پہنچے تو انہوں نے اسے اندرونی کمرے میں بات کرتے سنا۔ جب اجازت لے کر اندر گئے تو کسی کو نہ پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہیں کسی اور سے بات کرتے سنا۔“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں بخار کی وجہ سے لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر اندرونی کمرے میں چلا گیا تھا، تو میرے پاس ایک آنے والا آیا، میں نے آپ کے بعد کبھی کسی کو اس سے زیادہ باوقار مجلس والا اور بہتر گفتگو کرنے والا نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے، اور تم میں سے کچھ ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے پورا کر دے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتْ قُرَيْشٌ، الْيَهُودَ فَقَالُوا: بِمَ جَاءَكُمْ مُوسَى؟ قَالُوا: عَصَاهُ وَيَدُهُ بَيْضَاءَ لِلنَّاظِرِينَ، وَأَتَوُا النَّصَارَى، فَقَالُوا: كَيْفَ كَانَ عِيسَى؟ قَالُوا: كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ، وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَجْعَلْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا، " فَدَعَا رَبَّهُ , فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠] فَلْيَتَفَكَّرُوا فِيهَا "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قریش یہودیوں کے پاس گئے اور پوچھا: موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا: ان کا عصا اور دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا سفید ہاتھ۔ پھر عیسائیوں کے پاس گئے اور پوچھا: عیسیٰ علیہ السلام کیسے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے اور مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ صفا کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے۔ آپ ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ [سورۃ آل عمران: 190]، تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ الْحِمَّانِيِّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ حَتَّى يَتَصَدَّعَ أَهْلُ الْمَسْجِدِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ مغرب کے بعد دو رکعت پڑھتے، ان میں اتنی لمبی قراءت کرتے کہ مسجد والوں کو سر میں درد ہونے لگتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَتْ قُرَيْشٌ يَطُوفُونَ بِالْبَيْتِ وَهُمْ عُرَاةٌ يُصَفِّرُونَ وَيُصَفِّقُونَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللهِ} [الأعراف: ٣٢] فَأُمِرُوا بِالثِّيَابِ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”قریش خانہ کعبہ کا طواف ننگے ہو کر کرتے تھے، سیٹیاں بجاتے اور تالیاں بجاتے تھے، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کہہ دیجیے! اللہ کی زینت کو کس نے حرام کیا ہے“ [سورۃ الاعراف: 32]، تو انہیں کپڑے پہننے کا حکم دیا گیا۔“
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ أَبِي رَوْحٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ، وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ} [يونس: ٦٢] قَالَ: «يُذْكَرُ اللهُ بِرُؤْيَتِهِمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے ”خبردار! بے شک اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے“ [سورۃ یونس: 62] کے بارے میں روایت کرتے ہیں: ”انہیں دیکھنے سے اللہ یاد آتا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَيَّامٍ أَحَبُّ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِنَّ الْعَمَلُ - أَوْ قَالَ - أَفْضَلُ فِيهِنَّ الْعَمَلُ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ» . قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ , وَلَا الْجِهَادُ؟ قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ إِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَا يَرْجِعُ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی دن ایسا نہیں جن میں عمل اللہ عزوجل کو ان دس دنوں کے مقابلے میں زیادہ محبوب — یا فرمایا: افضل — ہو۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: ”جہاد بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلا پھر ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لایا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامٍ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي عَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ. قَالَ: «وَلَا الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ إِلَّا أَنْ يَخْرُجَ رَجُلٌ بِنَفْسِهِ، وَمَالِهِ ثُمَّ لَا يَرْجِعُ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ذوالحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کسی دن میں عمل افضل نہیں۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد بھی نہیں، سوائے اس کے کہ کوئی شخص اپنی جان اور مال کے ساتھ نکلے پھر ان میں سے کچھ بھی واپس نہ لائے۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ زَكَرِيَّا التُّسْتَرِيُّ، ثنا الْأَزْرَقُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، وَالْأَعْمَشُ، وَمُخَوَّلٌ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا أَيَّامٌ الْعَمَلُ فِيهَا أَفْضَلُ مِنْ أَيَّامِ الْعَشْرِ» ، قَالَ رَجُلٌ: وَلَا مِثْلُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ؟ ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ: «إِلَّا أَنْ لَا يَرْجِعَ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دنیا کے دنوں میں سے کسی دن کا عمل ان دس دنوں کے عمل سے افضل نہیں۔“ ایک شخص نے پوچھا: کیا اللہ کی راہ میں بھی اس جیسا نہیں؟ تین مرتبہ پوچھا، تو رسول اللہ ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا: ”سوائے اس کے کہ وہ واپس ہی نہ لوٹے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّ أُخْتَهَا نَذَرَتْ أَنْ تَصُومَ شَهْرًا، وَأَنَّهَا رَكِبَتِ الْبَحْرَ، فَمَاتَتْ وَلَمْ تَصُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَوْمِي عَنْ أُخْتِكِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ... اس نے آپ ﷺ کو بتایا کہ اس کی بہن نے ایک مہینے کے روزے رکھنے کی نذر مانی تھی، اور وہ سمندر کے سفر پر گئی تو فوت ہو گئی اور روزے نہ رکھ سکی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بہن کی طرف سے روزے رکھو۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ , إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ قَالَ: «لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى» . قَالَ سُلَيْمَانُ: فَقَالَ الْحَكَمُ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ وَنَحْنُ جَمِيعًا جُلُوسٌ حِينَ حَدَّثَ مُسْلِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ: سَمِعْنَا مُجَاهِدًا يَذْكُرُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری ماں فوت ہو گئیں اور ان پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں ان کی طرف سے قضا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الرَّازِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْجَرَّاحِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولُ اللهِ , إِنَّ أُمِّي جَعَلَتْ عَلَيْهَا صَوْمَ شَهْرٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ كُنْتَ تَقْضِيهِ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری ماں نے ایک مہینے کے روزے کی نذر مانی تھی اور وہ فوت ہو گئیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بتاؤ، اگر ان پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أَبِي مَاتَ، وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: «لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: «فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے والد فوت ہو گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا تھا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتے؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کا قرض ادا کرنے کا زیادہ حق دار ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ الْم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن نماز فجر میں ”الم، تنزیل السجدہ“ اور ”ہل اتی علی الانسان“ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيلٍ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ الْم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ، وَهَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ، وَيَقْرَأُ فِي الْجُمُعَةِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے دن نماز فجر میں ”الم، تنزیل السجدہ“ اور ”ہل اتی علی الانسان“ پڑھتے تھے، اور جمعہ کی نماز میں ”سبح اسم ربک الاعلی“ اور ”ہل اتاک حدیث الغاشیہ“ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ إِذَا قَرَأَ: سَبَّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى قَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّي الْأَعْلَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب ”سبح اسم ربک الاعلی“ پڑھتے تو کہتے: ”سبحان ربی الاعلی۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، أُخْرِجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيَهْلِكُنَّ جَمِيعًا، فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بَأَنَّهُمْ ظُلِمُوا، وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ} [الحج: ٣٩] {الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ} [الحج: ٤٠] ، عَرَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے نکلے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”انا للہ و انا الیہ راجعون، رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا گیا، یہ سب ضرور ہلاک ہو کر رہیں گے۔“ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: ”جن لوگوں سے جنگ کی جا رہی ہے انہیں اجازت دے دی گئی، اس لیے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بے شک اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے“ [سورۃ الحج: 39]، ”وہ لوگ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے“ [سورۃ الحج: 40]، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہو گیا کہ اب لڑائی ہو گی۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِقَالٍ الْحَرَّانِيُّ النُّفَيْلِيُّ قَالَا: ثنا غَنَّامُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مِنَ اللَّيْلِ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَسْتَاكُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ رات کو دو رکعت پڑھتے، پھر فارغ ہو کر مسواک کرتے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو رَبِيعَةَ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ طَالِبٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَجَوَّزُوا فِي الصَّلَاةِ، فَإِنَّ خَلْفَكُمُ الضَّعِيفَ، وَالْكَبِيرَ، وَذَا الْحَاجَةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں تخفیف کرو، کیونکہ تمہارے پیچھے کمزور، بوڑھے اور حاجت مند لوگ ہوتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَبْغَضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَلَا يُحِبُّ ثَقِيفًا رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ انصار سے بغض نہیں رکھتا، اور جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ثقیف (قبیلے) سے محبت نہیں رکھتا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْمُحَيَّاةِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى خَمْسَ صَلَوَاتٍ بِمِنًى "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے منیٰ میں پانچ نمازیں پڑھیں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ تَسْنِيمٍ، ثنا حَسَنُ بْنُ حُسَيْنٍ الْعَرَبِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: «هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَحْمُهُ لَحْمِي، وَدَمُهُ دَمِي، هُوَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”یہ علی بن ابی طالب ہیں، ان کا گوشت میرا گوشت ہے، اور ان کا خون میرا خون ہے، ان کی حیثیت میرے نزدیک وہی ہے جو ہارون علیہ السلام کی موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی، سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهُوَ بِقُدَيْدٍ عَجُزَ حِمَارٍ، فَرَدَّهُ يَقْطُرُ دَمًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو، جبکہ آپ ﷺ قدید میں تھے، گورخر کا پچھلا حصہ ہدیہ کیا، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا جبکہ اس سے خون ٹپک رہا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَهْدَى الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَجُزَ حِمَارٍ يَقْطُرُ دَمًا، فَرَدَّهُ، وَقَالَ: «إِنَّا حُرُمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کو گورخر کا پچھلا حصہ ہدیہ کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا، تو آپ ﷺ نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا: ”ہم احرام کی حالت میں ہیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْقَطِرَانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ، فَلَمْ يَجِبْ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ» هَكَذَا رَوَاهُ الْقَطِرَانِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مَوْقُوفًا، وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مَرْفُوعًا
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”جس نے اذان سنی پھر جواب نہ دیا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے قطرانی نے سلیمان بن حرب سے موقوفاً روایت کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن اسحاق قاضی نے سلیمان بن حرب سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے قطرانی نے سلیمان بن حرب سے موقوفاً روایت کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن اسحاق قاضی نے سلیمان بن حرب سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، وَإِدْرِيسُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْحَدَّادُ قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ يُدْعَى إِلَى الْجَنَّةِ الْحَمَّادُونَ الَّذِينَ يَحْمَدُونَ اللهَ عَلَى السَّرَّاءِ، وَالضَّرَّاءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنت کی طرف سب سے پہلے بلائے جانے والے وہ لوگ ہیں جو خوشی اور تکلیف دونوں حالتوں میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ابْنَ آدَمَ , إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ، وَلَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ عَلَى الْأَرْضِ مَغْفِرَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي، وَلَوْ بَلَغَتْ خَطَايَاكَ عَنَانَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي لَغَفَرْتُ لَكَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا اور مجھ سے امید رکھتا رہے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا خواہ تجھ میں جو کچھ بھی ہو، اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اور اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے، اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے تو میں تجھے زمین بھر بخشش کے ساتھ ملوں گا۔ اور اگر تیرے گناہ آسمان کے بادلوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش مانگے، تو میں تجھے ضرور بخش دوں گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ، فَصَلَّى بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَصَلَّى بَيْنَ بَابِ الْبَيْتِ، وَالْحِجْرِ رَكْعَتَيْنِ» ، ثُمَّ قَالَ: «هَذِهِ الْقِبْلَةُ» , ثُمَّ دَخَلَ مَرَّةً أُخْرَى , فَقَامَ يَدْعُو، وَلَمْ يُصَلِّ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعت نماز پڑھی، پھر باہر تشریف لائے اور بیت اللہ کے دروازے اور حطیم کے درمیان دو رکعت پڑھی، پھر فرمایا: ”یہ قبلہ ہے۔“ پھر ایک اور موقع پر خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو دعا کے لیے کھڑے ہوئے اور نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ يُلَبِّي أَهْلُ الشِّرْكِ لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ شُرَكَاءَ فِيمَا رَزَقْنَاكُمْ، فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ}
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”مشرکین یہ تلبیہ کہا کرتے تھے: لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک إلا شریکاً ہو لک، تملکہ وما ملک (حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے ایک شریک کے جو تیرا ہی ہے، اس کا اور جو کچھ اس کی ملکیت میں ہے سب کا مالک تو ہی ہے)۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تمہارے مملوک غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس مال میں شریک ہے جو ہم نے تمہیں دیا ہے، کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ، اور تم انہیں ایسے ڈرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو؟“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، ثنا كَامِلٌ أَبُو الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَاسْتَقَى مَاءً، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ فِي خَلَقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} [البقرة: ١٦٤] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ، ثُمَّ افْتَتَحَ الْبَقَرَةَ، فَقَرَأَهَا حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» ، ثُمِّ سَجَدَ، فَقَالَ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاجْبُرْنِي، وَارْفَعْنِي، وَارْزُقْنِي، وَاهْدِنِي» ، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ آلَ عِمْرَانَ حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ , ثُمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى، ثُمَّ اضْطَجَعَ، ثُمَّ قَامَ فَزِعًا فَفَعَلَ مِثْلَمَا فَعَلَ فِي اْلْأُولَيَيْنِ فََقَرَأَ حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ يَضْطَجِعُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، ثُمَّ قَالَ: «اللهُمَّ اجْعَلْ فِي نَفْسِي نُورًا، وَفي قلبي نُورًا , وَفِي بَصَرِي نُورًا، وَفِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ بَيْنَ يَدَيَّ نُورًُا وَمِنْ خَلْفِي نُُورًا، وَعَنْ يَمِينِي نُورًا، وَعَنْ شِمَالِي نُورًا، وَمِنْ تَحْتِي نُورًا، وَمِنْ فَوْقِي نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ... پھر پانی لیا، وضو کیا، پھر سورۃ آل عمران کی آیت: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں...“ [آل عمران: 190] سے سورت کے آخر تک تلاوت کی، پھر سورۃ البقرہ شروع کی اور اسے حرف بہ حرف پڑھتے ہوئے مکمل کیا، پھر رکوع کیا اور کہا: ”سبحان ربی العظیم“، پھر سجدہ کیا اور کہا: ”سبحان ربی الاعلیٰ“، پھر اپنا سر اٹھایا تو دونوں سجدوں کے درمیان کہا: ”رب اغفر لی، وارحمنی، واجبرنی، وارفعنی، وارزقنی، واہدنی (اے میرے رب! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میری کمی پوری فرما، مجھے بلند فرما، مجھے رزق دے، اور مجھے ہدایت دے)“، پھر کھڑے ہوئے اور دوسری رکعت میں سورۃ آل عمران کو آخر تک پڑھا، پھر رکوع اور سجدہ کیا، پھر ویسا ہی کیا جیسے پہلی رکعت میں کیا تھا، پھر لیٹ گئے، پھر گھبرا کر اٹھے اور پہلی دو رکعتوں کی طرح کیا، اور حرف بہ حرف تلاوت کرتے رہے یہاں تک کہ آٹھ رکعتیں پڑھ لیں، ہر دو رکعت کے بعد لیٹتے رہے، پھر تین رکعت وتر پڑھا، پھر فجر کی دو رکعتیں پڑھیں، پھر فرمایا: ”اے اللہ! میرے نفس میں نور پیدا کر، میرے دل میں نور پیدا کر، میری آنکھ میں نور پیدا کر، میرے کان میں نور پیدا کر، میرے آگے نور پیدا کر، میرے پیچھے نور پیدا کر، میری دائیں جانب نور پیدا کر، میری بائیں جانب نور پیدا کر، میرے نیچے نور پیدا کر، میرے اوپر نور پیدا کر، اور میرے لیے نور کو عظیم بنا دے۔“
…