حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، وَمُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُحْرِمًا أَوْقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم کو اس کی سواری نے گرا کر ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں (احرام کے) کپڑوں میں کفن دو، اور اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ النَّضْرِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا دُحَيْمٌ قَالَ: ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُحْرِمًا، وَقَصَتْهُ، رَاحِلَتُهُ فَمَاتَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ يَغْسِلُوهُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ، وَأَنْ يُكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا يُخَمِّرُوا وَجْهَهُ؛ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم کو اس کی سواری نے گرا کر ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جائے، اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دیا جائے، اور اس کا چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وُقِصَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى رَاحِلَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَمَاتَ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم میں سے ایک آدمی حالت احرام میں اپنی سواری سے گر کر ہلاک ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور اس کا چہرہ مت ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَوَقَصَتْ رَجُلًا نَاقَتُهُ، فَمَاتَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ ایک آدمی کی اونٹنی نے اسے گرا کر ہلاک کر دیا، اور وہ حالت احرام میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور نہ اس کا سر ڈھانپو اور نہ چہرہ، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مُحْرِمٌ إِذْ عَثَرَ بِهِ بَعِيرُهُ فَوَقَعَ عَنْهُ فَوُقِصَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِالْمَاءِ وَالسِّدْرِ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ الَّذِي أَحْرَمَ فِيهِمَا، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُهِلًّا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ سفر میں تھے اور آپ ﷺ کے ساتھ مسلمانوں میں سے ایک آدمی تھا جو حالت احرام میں تھا، اچانک اس کا اونٹ لڑکھڑایا اور وہ اس سے گر کر ہلاک ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے انہی دونوں کپڑوں میں کفن دو جن میں اس نے احرام باندھا تھا، اور اس کا چہرہ نہ ڈھانپو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَنْ نَاقَتِهِ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی ایک ایسے آدمی کا یہی جیسا واقعہ مروی ہے جو اپنی اونٹنی سے گر گیا تھا۔
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ السِّمْسَارُ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ثنا خَالِدٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَقَصَتْ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتُهُ , فَقَتَلَتْهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ، وَسِدْرٍ، وَلَا تُغَطُّوا وَجْهَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا کر ہلاک کر دیا، اور وہ حالت احرام میں تھا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اسے خوشبو مت لگاؤ، اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور اس کا چہرہ مت ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ حَدَّثَهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا صَرَعَهُ بَعِيرُهُ فَوَقَصَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْنِ، وَاغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَلَا تُغَطُّوا رَأْسَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی کو اس کے اونٹ نے گرا دیا اور اس کی گردن توڑ ڈالی، اور وہ حالت احرام میں تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے دو کپڑے پہناؤ (کفن دو)، اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اور اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکارتا ہوا اٹھائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، ثنا هَانِئُ بْنُ سَعِيدٍ النَّخَعِيُّ، ثنا حَجَّاجٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا الْمَعْمَرِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ حَمْدَانَ الْحَنَفِيُّ الْأَصْبَهَانِيُّ قَالَا: ثنا مَيْمُونُ بْنُ الْأَصْبَغِ النَّصِيبِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا، وَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُقَرِّبُوا طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا کر ہلاک کر دیا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور اسے خوشبو کے قریب مت کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ عَلَى نَاقَتِهِ إِذْ وَقَصَتْهُ، فَمَاتَ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِسِدْرٍ وَمَاءٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ وَلَا وَجْهَهُ، فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی اپنی اونٹنی پر سوار تھا کہ اچانک اس نے اسے گرا دیا اور وہ ہلاک ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے بیری کے پتوں اور پانی سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور نہ اس کا سر ڈھانپو اور نہ چہرہ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھائے گا۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ مُحْرِمًا وَقَصَتْهُ رَاحِلَتُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا - أَوْ قَالَ: مُلَبِّدًا - "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک محرم کو اس کی سواری نے گرا کر ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور اسے خوشبو کے قریب مت کرو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا — یا فرمایا: بال جمائے ہوئے — اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا خَالِدٌ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَ مُحْرِمٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ شَيْئًا كَانَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک محرم فوت ہو گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل دو، اور اس کے قریب کوئی ایسی چیز مت لاؤ جو اس پر حرام تھی، اور اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ وَهُوَ مُحْرِمٌ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِشَيْءٍ كَانَ يَحْرُمُ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی حالت احرام میں فوت ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل دو اور اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اور اسے کوئی ایسی چیز مت لگاؤ جو اس پر حرام تھی، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُغَسَّلَ وَيُدْرَجَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُمَسَّ بِطِيبٍ» ، وَأَشُكُّ أَغُطِّيَ رَأْسُهُ أَمْ لَا؟ قَالَ: «هَذَا يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک مسلمان آدمی فوت ہو گیا، تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے غسل دیا جائے اور دو کپڑوں میں لپیٹا جائے، اور اسے خوشبو نہ لگائی جائے — اور مجھے شک ہے کہ کیا (یہ بھی فرمایا کہ) اس کا سر ڈھانپا جائے یا نہیں — آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَبِيبٍ الْعَسَّالُ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَمَاتَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْ يُكَفَّنَ وَيُغَسَّلَ، وَلَا يُخَمَّرَ وَجْهُهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي - أَوْ قَالَ: يُهِلُّ - "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ وہ اپنی سواری سے گر کر فوت ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے کفن دیا جائے اور غسل دیا جائے، اور اس کا چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا — یا فرمایا: احرام باندھے ہوئے — اٹھایا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: إِنَّ أَخِي صَرَعَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَلَا تُحَنِّطْهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُحْرِمًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: میرے بھائی کو اس کے اونٹ نے گرا دیا ہے اور وہ حالت احرام میں فوت ہو گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے حنوط (خوشبو) مت لگاؤ، کیونکہ وہ قیامت کے دن حالت احرام ہی میں اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَصَتْ بِرَجُلٍ مُحْرِمٍ نَاقَتُهُ، فَقَتَلَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ وَكَفِّنُوهُ وَلَا تَغْسِلُوا رَأْسَهُ، وَلَا تُقَرِّبُوهُ طِيبًا فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يُهِلِّ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک محرم آدمی کو اس کی اونٹنی نے گرا کر ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ خبر لائی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے غسل دو اور کفن دو، اور اس کے سر کو مت دھونا، اور اسے خوشبو کے قریب مت لے جاؤ، کیونکہ وہ تلبیہ پکارتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: وَقَعَ رَجُلٌ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَوَقَصَتْهُ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذُكِرَ لَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا وَجْهَهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی حالت احرام میں اپنی سواری سے گر پڑا اور اس نے اسے ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ بات پہنچائی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اس کا چہرہ مت ڈھانپو، اور اسے خوشبو مت لگاؤ، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعِيرٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَقَعَصَهُ - قَالَ شُعْبَةُ: يَعْنِي مَاتَ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ خَارِجًا رَأْسُهُ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور وہ حالت احرام میں تھا، تو اس نے اسے گرا کر مار ڈالا — (راوی شعبہ کہتے ہیں: یعنی وہ فوت ہو گیا) — رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں اس طرح کفن دو کہ اس کا سر باہر رہے، اور اسے خوشبو مت لگاؤ، کیونکہ وہ قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمُؤَدِّبُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ , فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ طِيبًا، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک آدمی کو اس کے اونٹ نے گرا کر ہلاک کر دیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو، اسے اس کے دونوں کپڑوں میں کفن دو، اسے خوشبو مت لگاؤ، اور اس کا سر مت ڈھانپو، کیونکہ وہ قیامت کے دن بال جمائے (احرام کی حالت میں) اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ، حَتَّى يُنَزَّلَ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کو (نماز میں) سورت کے اختتام کا علم نہیں ہوتا تھا جب تک کہ آپ ﷺ پر ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نازل نہ ہو جاتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّيبَاجِيُّ التُّسْتَرِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا فُهَيْرِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَلِمَ أَنَّ السُّورَةَ قَدْ خُتِمَتْ، وَاسْتَقْبَلَ الْأُخْرَى "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ پر جب ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ نازل ہوتی تو آپ ﷺ کو معلوم ہو جاتا کہ سورت ختم ہو گئی ہے، اور آپ ﷺ اگلی سورت کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، يُنَزِّلُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَحْيَ، فَإِذَا قَالَ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، افْتَتَحَ سُورَةً أُخْرَى "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جبریل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل کرتے تھے، تو جب وہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کہتے تو (اس سے) ایک نئی سورت کا آغاز ہوتا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا هُوَيْرُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنَ الْغَائِطِ، ثُمَّ قَعَدَ فَطَعِمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ , أَلَا تَوَضَّأُ؟ قَالَ: «إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ لِلصَّلَاةِ، فَأَمَّا الطَّعَامُ فَلَا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ قضائے حاجت سے نکلے، پھر بیٹھ کر کھانا کھایا۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے تو نماز کے لیے وضو کا حکم دیا گیا ہے، رہا کھانا، تو اس کے لیے نہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تَزَوَّجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ» هَكَذَا رَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، وَرَوَاهُ أَصْحَابُ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ الصَّحِيحُ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے حالت احرام میں نکاح کیا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے معاویہ بن ہشام نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ثوری کے دیگر شاگردوں نے ثوری سے، عمرو بن دینار سے، جابر بن زید سے، اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور یہی صحیح ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے معاویہ بن ہشام نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ثوری کے دیگر شاگردوں نے ثوری سے، عمرو بن دینار سے، جابر بن زید سے، اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، اور یہی صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيًا جَمْعًا، وَخَمْسًا جَمْعًا فِي غَيْرِ مَطَرٍ وَلَا خَوْفٍ» هَكَذَا رَوَاهُ الْجُعْفِيُّ حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَرَوَاهُ أَصْحَابُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آٹھ رکعتیں اکٹھی (جمع کر کے) پڑھیں، اور پانچ رکعتیں اکٹھی پڑھیں، حالانکہ نہ بارش تھی اور نہ خوف۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے حسین جعفی نے ابن عیینہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ابن عیینہ کے دیگر شاگردوں نے ابن عیینہ سے، عمرو بن دینار سے، جابر بن زید سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح عمرو بن دینار کے شاگردوں نے بھی عمرو بن دینار سے، جابر بن زید سے روایت کیا ہے۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسے حسین جعفی نے ابن عیینہ سے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ ابن عیینہ کے دیگر شاگردوں نے ابن عیینہ سے، عمرو بن دینار سے، جابر بن زید سے روایت کیا ہے، اور اسی طرح عمرو بن دینار کے شاگردوں نے بھی عمرو بن دینار سے، جابر بن زید سے روایت کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، وَعَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْح الْمِصْرِيَّانِ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً مُشَاةً غُرْلًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن، پیدل اور غیر مختون حالت میں اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْتَقَى عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَمَّنَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «تَدْرُونَ لِمَ أَمَّنْتُ؟» قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَخْبَرَنِي: أَنَّهُ مَنْ ذُكِرْتَ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْكَ دَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدَهُمَا، فَلَمْ يَبَرَّهُمَا دَخَلَ النَّارَ فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ فَلَمْ يُغْفَرْ لَهُ دَخَلَ النَّارَ، فَأَبْعَدَهُ اللهُ وَأَسْحَقَهُ، فَقُلْتُ: آمِينَ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ منبر پر چڑھے تو تین بار ”آمین“ کہا، پھر فرمایا: ”تمہیں معلوم ہے میں نے آمین کیوں کہی؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور مجھے بتایا کہ جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو وہ جہنم میں داخل ہو، اللہ اسے دور کرے اور اسے ذلیل کرے۔ تو میں نے کہا: آمین۔ اور جس نے اپنے والدین کو، یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ نیکی نہ کی تو وہ جہنم میں داخل ہو، اللہ اسے دور کرے اور اسے ذلیل کرے۔ تو میں نے کہا: آمین۔ اور جس نے رمضان پایا اور اس کی بخشش نہ ہوئی تو وہ جہنم میں داخل ہو، اللہ اسے دور کرے اور اسے ذلیل کرے۔ تو میں نے کہا: آمین۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ، فَقَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ شَهْوَةً، وَإِنَّ شَهْوَتِي فِي قِيَامِ هَذَا اللَّيْلِ، فَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ خَلْفِي، وَإِنَّ اللهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ طُعْمَةً، وَإِنَّ طُعْمَتِي هَذَا الْخُمُسُ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَهُوَ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اللہ ﷺ ایک دن بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ ﷺ کے ارد گرد تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے ہر نبی کے لیے ایک خواہش رکھی ہے، اور میری خواہش اس رات کے قیام میں ہے، تو کوئی میرے پیچھے (اس نفل قیام میں) نماز نہ پڑھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے لیے ایک روزی مقرر کی ہے، اور میری روزی یہ خمس ہے، تو جب میں فوت ہو جاؤں تو یہ میرے بعد آنے والے حکمرانوں کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: دَعَا نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا، وَمُدِّنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي مَكَّتِنَا وَمَدِينَتِنَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَيَمَنِنَا» ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللهِ وَعِرَاقِنَا، فَقَالَ: «إِنَّ بِهَا قَرْنَ الشَّيْطَانِ، وََنَبْحَ الْفِتَنِ، وَإِنَّ الْجَفَاءَ بِالْمَشْرِقِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اللہ ﷺ نے دعا کی اور فرمایا: ”اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما، ہمارے مکہ اور ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما، اور ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکت عطا فرما۔“ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اور ہمارے عراق میں بھی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بےشک وہاں شیطان کا سینگ ہے اور فتنوں کی بھونک (شور) ہے، اور بےشک سختی مشرق کی طرف سے (نکلتی) ہے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الدَّرْدَاءِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُنِيبِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ , فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ وَبَلِّغْهُ دَرَجَةَ الْوَسِيلَةِ عِنْدَكَ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اذان سنی اور کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور بےشک محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اے اللہ! ان پر درود بھیج اور انہیں اپنے ہاں وسیلے کا درجہ عطا فرما، اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت نصیب فرما، تو اس کے لیے شفاعت واجب ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَاصِمٍ النَّبِيلُ، ثنا أَبِي، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي مَسْلَمَةُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: شَهِدَ عِنْدِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْمُقَيَّرِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالْحَنْتَمِ» قُلْتُ: مَا الْحَنْتَمُ؟ قَالَ: «كُلُّ مَدَرٍ»
ترجمہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میرے سامنے سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے دباء (کدو کے برتن)، مقیر اور مزفت (روغن لگے برتن) اور حنتم سے منع فرمایا۔ میں نے پوچھا: حنتم کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہر مٹی کا (پکا ہوا) برتن۔“