المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12294
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الصِّينِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: ابْنَ آدَمَ , إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي غَفَرْتُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ، وَلَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَقِيتُكَ عَلَى الْأَرْضِ مَغْفِرَةً مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي، وَلَوْ بَلَغَتْ خَطَايَاكَ عَنَانَ السَّمَاءِ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي لَغَفَرْتُ لَكَ "ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل فرماتا ہے: اے ابن آدم! جب تک تو مجھے پکارتا اور مجھ سے امید رکھتا رہے گا، میں تجھے بخشتا رہوں گا خواہ تجھ میں جو کچھ بھی ہو، اور مجھے کوئی پروا نہیں۔ اور اگر تو زمین بھر گناہ لے کر میرے پاس آئے، اور مجھ سے کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے تو میں تجھے زمین بھر بخشش کے ساتھ ملوں گا۔ اور اگر تیرے گناہ آسمان کے بادلوں تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے بخشش مانگے، تو میں تجھے ضرور بخش دوں گا۔“