المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حدیث نمبر: 12296
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ الْفَرَجِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ يُلَبِّي أَهْلُ الشِّرْكِ لَبَّيْكَ اللهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ إِلَّا شَرِيكا هُوَ لَكَ تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {هَلْ لَكُمْ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ شُرَكَاءَ فِيمَا رَزَقْنَاكُمْ، فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ}ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”مشرکین یہ تلبیہ کہا کرتے تھے: لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک إلا شریکاً ہو لک، تملکہ وما ملک (حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں سوائے ایک شریک کے جو تیرا ہی ہے، اس کا اور جو کچھ اس کی ملکیت میں ہے سب کا مالک تو ہی ہے)۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ”کیا تمہارے مملوک غلاموں میں سے کوئی تمہارا اس مال میں شریک ہے جو ہم نے تمہیں دیا ہے، کہ تم اس میں برابر ہو جاؤ، اور تم انہیں ایسے ڈرو جیسے آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو؟“