المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
سعيد بن جبير، عن ابن عباس باب: سعید بن جبیر کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا» ، ثُمَّ قَرَأَ: {كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ} [الأنبياء: ١٠٤] فَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ وَيُؤْخَذُ بِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي ذَاتَ الْيَمِينِ وَذَاتَ الشِّمَالِ، فَأَقُولُ: أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ، فَأَقُولُ كَمَا قَالَ: الْعَبْدُ الصَّالِحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ": {كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ , وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ} [المائدة: ١١٧] {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: ١١٨]سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن اور ختنہ کے بغیر اٹھائے جاؤ گے۔“ پھر یہ آیت تلاوت کی: ”جس طرح ہم نے پہلی تخلیق شروع کی تھی اسی طرح اسے دوبارہ لوٹائیں گے، یہ ہم پر لازم وعدہ ہے، بے شک ہم ایسا ضرور کریں گے“ [سورۃ الانبیاء: 104]۔ سب سے پہلے کپڑا پہنائے جانے والے سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور میرے کچھ ساتھیوں کو دائیں بائیں سے پکڑ کر لے جایا جائے گا، تو میں کہوں گا: یہ میرے ساتھی ہیں، تو کہا جائے گا: آپ کے ان سے جدا ہونے کے بعد سے یہ لوگ برابر اپنی ایڑیوں کے بل مرتد ہوتے رہے۔ تو میں بھی وہی کہوں گا جو نیک بندے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام نے کہا تھا: ”میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں موجود رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگہبان تھا، اور تو ہر چیز پر گواہ ہے“ [سورۃ المائدہ: 117]، ”اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے“ [سورۃ المائدہ: 118]۔