حدیث نمبر: 12264
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْخَطَّابِ، ثنا حِبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ؟» فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَ: «أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ هُذَيْلٍ؟» , فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَقَدْ مَاتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكَلَّمَ حَيْثُ تَكَلَّمْتُ؟» قَالَ: ظَنَنْتُ يَا رَسُولَ اللهِ أَنَّهُ أُنْزِلَ فِي قَوْمِي شَيْءٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَكُونَ أَنَا الَّذِي آتِيَهُمْ بِهِ. قَالَ: «لَا , إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ بِدَيْنِهِ»
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن فرمایا: ”کیا تم میں ہذیل کا کوئی شخص ہے؟“ کسی نے جواب نہ دیا۔ پھر فرمایا: ”کیا تم میں ہذیل کا کوئی شخص ہے؟“ تو ایک شخص نے کہا: میں ہوں، اور ان میں سے ایک شخص فوت ہو چکا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں نے پہلے پوچھا تھا تو تمہیں بولنے سے کس چیز نے روکا؟“ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے خیال ہوا کہ میری قوم کے بارے میں کچھ نازل ہوا ہے، تو میں نے یہ ناپسند کیا کہ میں ہی یہ خبر ان تک پہنچانے والا بنوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمہارا ساتھی اپنے قرض کی وجہ سے روکا ہوا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12264
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 10، حدیث 12316