حدیث نمبر: 12270
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَتَتْ قُرَيْشٌ، الْيَهُودَ فَقَالُوا: بِمَ جَاءَكُمْ مُوسَى؟ قَالُوا: عَصَاهُ وَيَدُهُ بَيْضَاءَ لِلنَّاظِرِينَ، وَأَتَوُا النَّصَارَى، فَقَالُوا: كَيْفَ كَانَ عِيسَى؟ قَالُوا: كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ، وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يَجْعَلْ لَنَا الصَّفَا ذَهَبًا، " فَدَعَا رَبَّهُ , فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ} [آل عمران: ١٩٠] فَلْيَتَفَكَّرُوا فِيهَا "
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: قریش یہودیوں کے پاس گئے اور پوچھا: موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس کیا لے کر آئے تھے؟ انہوں نے کہا: ان کا عصا اور دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا سفید ہاتھ۔ پھر عیسائیوں کے پاس گئے اور پوچھا: عیسیٰ علیہ السلام کیسے تھے؟ انہوں نے کہا: وہ مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے اور مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ چنانچہ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے: اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ صفا کو ہمارے لیے سونے کا بنا دے۔ آپ ﷺ نے اپنے رب سے دعا کی، تو یہ آیت نازل ہوئی: ”بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ [سورۃ آل عمران: 190]، تاکہ وہ اس میں غور و فکر کریں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 12270
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 12، صفحہ 12، حدیث 12322