کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذِهِ وَهَذِهِ سَوَاءٌ» . يَعْنِي: الْإِبْهَامَ وَالْخِنْصِرَ، دِيَّتُهُمَا سَوَاءٌ.
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ اور یہ برابر ہیں۔“ یعنی انگوٹھا اور چھنگلیا، ان دونوں کی دیت برابر ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11774
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 307، حدیث 11824
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11775
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 308، حدیث 11825
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أُرَاهُ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِأَرْبَعٍ: شَرَطَ مَوَالِيهَا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وأَمَرَها أَنْ تَعْتَدَّ، وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ» ، وَأَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ مِنْهَا فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک سیاہ فام غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں انہیں مدینہ کی گلیوں میں (روتے ہوئے) اپنی آنکھیں پونچھتے دیکھا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں چار باتوں کا فیصلہ فرمایا: ان کے آقاؤں نے ان پر ولاء کی شرط رکھی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“ اور انہیں اختیار دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو چن لیا، اور انہیں عدت گزارنے کا حکم دیا، اور ان پر صدقہ کیا گیا تھا، تو انہوں نے اس میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11776
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 308، حدیث 11826
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَا: ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَافَ سَبْعًا فَطَافَ سَعْيًا لِأَنَّهُ أَحَبَّ أَنْ يُري النَّاسَ قُوَّتَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے سات چکر لگائے اور دوڑ کر (تیز رفتاری سے) طواف کیا، کیونکہ آپ لوگوں کو اپنی طاقت دکھانا چاہتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11777
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 308، حدیث 11827
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقَزَّازُ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَا: ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنْ نَذْرِ أُخْتِكَ فَلْتَرْكَبْ، وَلْتُهْدِ بَدَنَةً»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ان کی بہن نے بیت اللہ تک پیدل چلنے کی نذر مانی ہے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کو تمہاری بہن کی نذر کی کوئی حاجت نہیں، وہ سوار ہو جائے اور ایک اونٹ قربان کر دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11778
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 308، حدیث 11828
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ، فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح مروی ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل چلنے کی نذر مانی، اور راوی نے نبی کریم ﷺ سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11779
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 308، حدیث 11829
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ {كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً} [البقرة: ٢١٣] قَالَ: «عَلَى الْإِسْلَامِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: ”لوگ ایک ہی امت تھے“ [سورۃ البقرہ: 213]، فرمایا: ”یعنی اسلام پر۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11780
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 309، حدیث 11830
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَاجِيَةَ، وَأَسْلَمُ بْنُ سَهْلٍ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا قَاسِمُ بْنُ عِيسَى الطَّائِيُّ، ح، وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، قَالَا: ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى كَلَامِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنِهِ الْآنُكُ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كَاذِبًا كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی تصویر بنائے اسے قیامت کے دن اس میں روح پھونکنے کا مکلف کیا جائے گا، اور جو کسی قوم کی بات سنے جبکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا، اور جو جھوٹا خواب بیان کرے اسے دو جَو کے دانوں کو باندھنے کا مکلف کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11781
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 309، حدیث 11831
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَاسِطِيُّ، ثنا طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: رَأَيْتُ بِالْأَبْطَحِ شَيْخًا أَحْمَقَ يُكَبِّرُ إِذَا سَجَدَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: «أَوَلَيْسَ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أُمَّ لَكَ؟»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: میں نے ابطح میں ایک بوڑھے کم عقل شخص کو دیکھا جو سجدے میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت تکبیر کہہ رہا تھا۔ انہوں نے فرمایا: ”کیا یہ رسول اللہ ﷺ کی نماز نہیں؟ تیری ماں نہ رہے!“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11782
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 310، حدیث 11832
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَبَنَى بِهَا بَعْدَمَا رَجَعَ بِمَاءٍ يُقَالُ لَهُ سَرِفٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں نکاح کیا، اور واپسی پر سَرِف نامی جگہ پر رخصتی کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11783
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 310، حدیث 11833
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَا أَعْيَبُ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي خُلُقٍ، وَلَا دَيْنٍ، وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ، وَأَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا مَا سَاقَ إِلَيْهَا وَلَا يَزْدَادَ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ پر اخلاق یا دین کے اعتبار سے کوئی عیب نہیں لگاتی، لیکن میں انہیں برداشت نہیں کر سکتی، اور مجھے اسلام میں ناشکری کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں ان کا باغ واپس کر دو گی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے صرف وہی لیں جو انہوں نے دیا تھا، اس سے زیادہ نہ لیں۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11784
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 310، حدیث 11834
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنا دین بدل ڈالے اسے قتل کر دو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11785
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 311، حدیث 11835
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ عَلِيلٌ يَشُقُّ عَلِيَّ الْقِيَامُ، فَمُرْنِي بِلَيْلَةٍ لَعَلَّ اللهَ أَنْ يُوَفِّقَنِي فِيهَا لَلَيْلَةِ الْقَدْرِ، قَالَ: «عَلَيْكَ بِالسَّابِعَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے والد بہت بوڑھے، بیمار ہیں، کھڑا ہونا میرے لیے مشکل ہے، سو مجھے کوئی رات بتا دیجیے، شاید اللہ مجھے اس میں شبِ قدر کی توفیق دے دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ساتویں کو لازم پکڑو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11786
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 311، حدیث 11836
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الْقَيْسِ، عَنِ الْمُزَّاءِ، وأَرْهَبُ أَنْ يَكُونَ الْبُسْرَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ عبدالقیس کو مُزّاء (ایک نشہ آور مشروب) سے منع فرمایا - راوی کہتے ہیں: اور میرا خیال ہے کہ یہ کچی کھجور (بُسر) سے بنائی جاتی تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11787
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 311، حدیث 11837
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11788
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 311، حدیث 11838
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَائِلَةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ طَالُوتَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ الْقَطَّانِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «أُنْزِلَ الْقُرْآنُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي رَمَضَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا جُمْلَةً، ثُمَّ أُنْزِلَ نُجُومًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”قرآن شبِ قدر میں رمضان میں آسمانِ دنیا کی طرف یکبارگی نازل کیا گیا، پھر تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11789
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 312، حدیث 11839
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ رَاشِدٍ الْأَدَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «افْتَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ فِي السَّفَرِ، كَمَا افْتَرَضَ أَرْبَعًا فِي الْحَضَرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے سفر میں دو رکعتیں فرض کیں، جیسے حضر میں چار رکعتیں فرض کی تھیں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11790
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 312، حدیث 11840
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيُّ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا أُنْزِلَتْ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا} [الأحزاب: ٤٥] دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا وَمُعَاذًا، وَقَدْ كَانَ أَمَرَهُمَا أَنْ يَخْرُجَا إِلَى الْيَمَنِ، فَقَالَ: " انْطَلِقَا وَبَشِّرَا، وَلَا تُنَفِّرَا، وَيَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، فَإِنَّهُ قَدْ أُنْزِلَتْ عَلِيَّ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا} [الأحزاب: ٤٥] عَلَى أُمَّتِكِ {وَمُبَشِّرًا} [الأحزاب: ٤٥] بِالْجَنَّةِ {وَنَذِيرًا} [البقرة: ١١٩] مِنَ النَّارِ {وداعيًا} [الأحزاب: ٤٦] إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ {وسراجًا مُنيرًا} [الأحزاب: ٤٦] بِالْقُرْآنِ "
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا“ [سورۃ الاحزاب: 45] تو نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہما کو بلایا، جنہیں آپ نے یمن جانے کا حکم دے رکھا تھا، اور فرمایا: ”جاؤ اور خوشخبری دو، نفرت مت دلاؤ، آسانی پیدا کرو، مشکل مت بناؤ، کیونکہ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے: اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو گواہ بنایا ہے - یعنی آپ کی امت پر - اور خوشخبری دینے والا - یعنی جنت کی - اور ڈرانے والا - یعنی آگ سے - اور بلانے والا - یعنی اس گواہی کی طرف کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں - اور روشن چراغ - یعنی قرآن کے ذریعے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11791
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 312، حدیث 11841
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَالِكٍ الْفَزَارِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَا: ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَسَدِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيُّ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي اتَّبَعْتُ امْرَأَةً، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فَصَنَعَ بِي مَا تَرَى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنَبِهِ حَتَّى يُوافِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عِيرٌ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اس حال میں کہ اس کا چہرہ خون میں لت پت تھا، اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ایک عورت کے پیچھے لگ گیا تھا، تو ایک شخص مجھے ملا اور اس نے میرے ساتھ وہ کیا جو آپ دیکھ رہے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل جب کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو دنیا ہی میں اس کے گناہ کی سزا جلد دے دیتا ہے، اور جب کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس کے گناہ کو روک رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں اس کے پاس آئے جیسے وہ بوجھ سے لدا ہوا قافلہ ہو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11792
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 313، حدیث 11842
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الْأَنْمَاطِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَأَيْتُ الدَّجَّالَ أَقْمَرَ هِجَانًا ضَخْمًا فَيْلَمِيًّا كَأَنَّ شَعَرَ رَأْسِهِ أَغْصَانُ شَجَرَةٍ، أَعْوَرَ كَأَنَّ عَيْنَهُ كَوْكَبُ الصُّبْحِ، أُشَبِّهُهُ بِعَبْدِ الْعُزَّى رَجُلٍ مِنْ خُزَاعَةَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں نے دجال کو دیکھا، چاند جیسا سفید، بہت بڑا جسیم، گویا اس کے سر کے بال درخت کی شاخیں ہیں، کانا، گویا اس کی آنکھ صبح کا ستارہ ہے، میں اسے خزاعہ کے ایک شخص عبدالعزیٰ سے تشبیہ دیتا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11793
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 313، حدیث 11843
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الدَّوْرَقِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَخْلَدٍ اللَّيْثِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ هِلَالٍ الْبَارِقِيُّ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَلَّمُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ، وَآلَ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا يَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافٍّ يُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا، تَعَلَّمُوا الْبَقَرَةَ، فَإِنَّ أَخَذَهَا بَرَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو روشن سورتیں سیکھو: البقرہ اور آلِ عمران، کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی گویا وہ دو بادل ہیں، یا دو سائبان ہیں، یا صف باندھے پرندوں کے دو جھنڈ ہیں، جو اپنے ساتھی کی طرف سے حجت پیش کریں گی۔ سورۃ البقرہ سیکھو، کیونکہ اسے اپنانا برکت ہے اور اسے چھوڑنا حسرت ہے، اور جادوگر اس پر قابو نہیں پا سکتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11794
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 313، حدیث 11844
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ، يَعْنِي: الْكَعْبَةَ، لَمْ يَدْخُلْ حَتَّى أَمَرَ بِهَا فَمُحِيَتْ وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ فَقَالَ: «قَاتَلَهُمُ اللهُ، وَاللهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب گھر یعنی کعبہ کے اندر تصویریں دیکھیں تو اس وقت تک اندر داخل نہ ہوئے جب تک انہیں مٹانے کا حکم نہ دے دیا، اور آپ نے سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کی تصویریں دیکھیں جن کے ہاتھوں میں فال کے تیر (ازلام) بنے ہوئے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ انہیں غارت کرے، اللہ کی قسم! ان دونوں نے کبھی ازلام سے فال نہیں نکالی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11795
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 314، حدیث 11845
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَ الْحَدِيثَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ وَقَالَ: «مَنْ تَرَكَهُنَّ خَشْيَةَ أَوْ مَخَافَةَ ثأرٍ فَلَيْسَ مِنَّا» قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «إِنَّ الْحَيَّاتِ مَسِيخُ الْجِنِّ، كَمَا مُسِخَتِ الْقِرَدَةُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ»
ترجمہ
عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ میرے خیال میں یہ حدیث مرفوع ہی ہے: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سانپوں کو قتل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور فرماتے: ”جو انتقام کے خوف یا اندیشے سے انہیں چھوڑ دے وہ ہم میں سے نہیں۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ بھی فرماتے تھے: ”سانپ جنوں کی مسخ شدہ صورت ہیں، جیسے بنی اسرائیل میں سے بندر مسخ کیے گئے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11796
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 314، حدیث 11846
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے زنانہ پن اختیار کرنے والے مردوں اور مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11797
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 314، حدیث 11847
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ، وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے زنانہ پن اختیار کرنے والے مردوں اور مردانہ پن اختیار کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11798
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 314، حدیث 11848
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ فَأَتَاهُنَّ فَوَعَظَهُنَّ وَقَالَ: «تَصَدَّقْنَ» فَجَعَلْتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخَاتَمَ وَالْقُرْطَ وَالْخُرْصَ وَالشيءَ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَجَمَعَهُ فِي ثِيَابِهِ حَتَّى أَمْضَاهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا، آپ نے خطبہ دیا، پھر خیال کیا کہ عورتوں کو آواز نہیں پہنچی، تو آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، انہیں نصیحت کی اور فرمایا: ”صدقہ کرو۔“ چنانچہ عورتیں انگوٹھیاں، بالیاں، کنڈل اور دیگر چیزیں ڈالنے لگیں، پھر آپ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے کپڑے میں جمع کیا یہاں تک کہ لے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11799
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 314، حدیث 11849
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ، أَوْ قَالَ:، رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ " وَقَالَ: «لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللهِ» ، يَعْنِي: النَّارَ،
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنا دین بدل ڈالے“ - یا فرمایا: ”اپنے دین سے پھر جائے“ - ”اسے قتل کر دو۔“ اور فرمایا: ”اللہ کے عذاب سے عذاب مت دو“ - یعنی آگ سے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11800
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 315، حدیث 11850
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا لِبَنِي فُلَانٍ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ وَاللهِ لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ الآنَ يَتْبَعُهَا فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ يَبْكِي»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر انصار کے فلاں گھرانے کا ایک غلام تھا، جسے مغیث کہا جاتا تھا۔ اللہ کی قسم! گویا میں ابھی اسے دیکھ رہا ہوں کہ وہ روتے ہوئے مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11801
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 315، حدیث 11851
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ، الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے، جو اپنا ہبہ واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹنے کے لیے واپس آتا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11802
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 315، حدیث 11852
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، ح، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنا ہبہ واپس لیتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹنے کے لیے واپس آتا ہے، ہمارے لیے بری مثال نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11803
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 315، حدیث 11853
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ مَنْسُوخَةً، كَانَ يَقْرَؤُهَا يُطَوَّقُونَهُ هِيَ فِي الشَّيْخِ الْكَبِيرِ، الَّذِي يُكَلَّفُ الصِّيَامَ، وَلَا يُطِيقُهُ فَيُفْطِرُ وَيُطْعِمُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ آیت منسوخ نہیں ہے، وہ اسے ﴿يُطَوَّقُونَهُ﴾ پڑھا کرتے تھے، یہ اس بوڑھے کے بارے میں ہے جسے روزے کا مکلف کیا جاتا ہے مگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا، تو وہ روزہ نہ رکھے اور فدیہ دے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11804
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 316، حدیث 11854
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَوَّرَ صُورَةً كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ أَبَدًا، وَيُعَذَّبُ عَلَيْهِ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ الْآنُكُ فِي سماخِهِ، وَمَنْ كَذَبَ فِي حُلْمِهِ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ شَعِيرَةً، أَوْ قَالَ: بَيْنِ شَعِيرَتَيْنِ، وَيُعَذَّبُ عَلَى ذَلِكَ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ "
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی تصویر بنائی، اسے قیامت کے دن مکلف کیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے، اور وہ کبھی نہیں پھونک سکے گا، اور اسے اس پر عذاب دیا جائے گا۔ اور جو کسی ایسی قوم کی بات سنے جو اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس کے کان میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ اور جو اپنے خواب میں جھوٹ بولے اسے مکلف کیا جائے گا کہ ایک جو کا دانہ باندھے - یا فرمایا: دو جو کے دانوں کے درمیان گرہ لگائے - اور اسے اس پر عذاب دیا جائے گا حالانکہ وہ ایسا کر ہی نہیں سکے گا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11805
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 316، حدیث 11855
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ الْمُقْعَدُ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ كَبْشًا، وَعَنِ الْحُسَيْنِ كَبْشًا»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک مینڈھا اور حسین رضی اللہ عنہ کی طرف سے ایک مینڈھا عقیقہ کیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11806
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 316، حدیث 11856
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا مَاتَ الْمُكَاتَبُ، وَتَرَكَ مِيرَاثًا أَوْ أَصَابَ حَدًّا فَإِنَّهُ يَرِثُ عَلَى قَدْرِ مَا أُعْتِقَ مِنْهُ، وَيُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِقَدْرِ مَا أُعْتِقَ مِنْهُ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مکاتب (وہ غلام جس نے آزادی کا معاہدہ کر رکھا ہو) فوت ہو جائے اور میراث چھوڑے، یا اس سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو جس پر حد لازم آتی ہو، تو وہ اتنی ہی میراث پائے گا جتنا حصہ اس میں آزاد ہو چکا تھا، اور اس پر اتنی ہی حد قائم کی جائے گی جتنا حصہ اس میں آزاد ہو چکا تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 316، حدیث 11857
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ الْعَمِّيُّ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ: «الْتَمِسُوهَا فِي تَاسِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي سَابِعَةٍ تَبْقَى، وَفِي خَامِسَةٍ تَبْقَى»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شب قدر کے بارے میں فرمایا: ”اسے نویں باقی رہ جانے والی رات میں، ساتویں باقی رہ جانے والی رات میں، اور پانچویں باقی رہ جانے والی رات میں تلاش کرو۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11808
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 317، حدیث 11858
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِي اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11809
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 317، حدیث 11859
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، ثنا أَسَدٌ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11810
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 317، حدیث 11860
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمِ الَّذِينَ مَضَوْا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَلْخُرْءُ يُدَهْدِهُ الْجُعَلُ بِأَنْفِهِ خَيْرٌ مِنْهُمْ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ان آباء و اجداد پر فخر نہ کرو جو جاہلیت میں گزر چکے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ گوبر کا ڈھیر جسے گوبریلا کیڑا اپنی ناک سے لڑھکاتا ہے، ان سے بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11811
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 317، حدیث 11861
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، ثنا هِشَامُ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَفْتَخِرُوا بِآبَائِكُمِ الَّذِينَ مُوِّتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَمَا يُدَحْرِجُ الْجُعَلُ بِأَنْفِهِ خَيْرٌ مِنْ آبَائِكُمِ الَّذِينَ مُوِّتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ان آباء و اجداد پر فخر نہ کرو جو جاہلیت میں مر چکے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جسے گوبریلا کیڑا اپنی ناک سے لڑھکاتا ہے وہ تمہارے ان آباء و اجداد سے بہتر ہے جو جاہلیت میں مر چکے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11812
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 317، حدیث 11862
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجَ مَيْمُونَةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ، وَبَنَى بِهَا بِسَرِفٍ وَهُوَ حَلَالٌ»
ترجمہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، اور سرف کے مقام پر احرام کھولنے کے بعد ان سے رخصتی کی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11813
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 318، حدیث 11863