❮
❯
حدیث نمبر: 11784
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولٍ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي لَا أَعْيَبُ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي خُلُقٍ، وَلَا دَيْنٍ، وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ، وَأَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا مَا سَاقَ إِلَيْهَا وَلَا يَزْدَادَ
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ پر اخلاق یا دین کے اعتبار سے کوئی عیب نہیں لگاتی، لیکن میں انہیں برداشت نہیں کر سکتی، اور مجھے اسلام میں ناشکری کا اندیشہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم انہیں ان کا باغ واپس کر دو گی؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے صرف وہی لیں جو انہوں نے دیا تھا، اس سے زیادہ نہ لیں۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 11784
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 11، صفحہ 310، حدیث 11834