المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عكرمة عن ابن عباس باب: عکرمہ کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا أَسْوَدَ يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنْتُ أُرَاهُ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ يَعْصِرُ عَيْنَيْهِ، فَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِأَرْبَعٍ: شَرَطَ مَوَالِيهَا عَلَيْهَا الْوَلَاءَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَخَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا، وأَمَرَها أَنْ تَعْتَدَّ، وَتُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ» ، وَأَهْدَتْ إِلَى عَائِشَةَ مِنْهَا فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ»سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ایک سیاہ فام غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں انہیں مدینہ کی گلیوں میں (روتے ہوئے) اپنی آنکھیں پونچھتے دیکھا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے بارے میں چار باتوں کا فیصلہ فرمایا: ان کے آقاؤں نے ان پر ولاء کی شرط رکھی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے فیصلہ فرمایا: ”ولاء اسی کا حق ہے جو آزاد کرے۔“ اور انہیں اختیار دیا تو انہوں نے اپنے آپ کو چن لیا، اور انہیں عدت گزارنے کا حکم دیا، اور ان پر صدقہ کیا گیا تھا، تو انہوں نے اس میں سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ کیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔“